وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم چینی صدر شی جن پنگ کے 4 نکاتی امن ایجنڈے کی بھرپور تائید کرتے ہیں اور امن کوششوں کی مسلسل حمایت پر مشکور ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف چین کے عظیم عوامی ہال وفد کے ہمراہ پہنچے جہاں چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، گرمجوشی سے مصافحہ کیا گیا، خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا، قومی ترانے بجائے گئے، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
اس موقع پر پاکستان اور چین کے وزرائے اعظم نے اپنے اپنے وفود کا تعارف کرایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب سے وفد کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ چین کے دورے کی پرتپاک دعوت پر آپ کا بے حد مشکور ہوں، آپ کے عظیم ملک کا دورہ کرنا میرے لیے ہمیشہ بے حد خوشی کا باعث ہو تا ہے، جب بھی چین آتے ہیں ہمیں نئی تعمیرات اور عظیم ترقی دیکھنے کو ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے برادر عوام سے صوبہ شانشی کی کوئلے کی کان میں دھماکے پر تعزیت کا اظہار کرتا ہوں، دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی لوگ زخمی ہوئے، ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑے ہیں، پاکستان اور چین اپنی شاندار دوستی اور سفارتی تعلقات کا 75واں سال منا رہے ہیں، پاکستان ، چین دوستی کی بنیاد ہمارے بانی رہنماؤں نے رکھی تھی۔
وزیراعظم نے چینی ہم منصب کو بتایا کہ فیلڈ مارشل نے ایرانی اور امریکی قیادت کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا، نائب وزیر اعظم نے بھی ایران اور خلیجی ممالک میں اپنے ہم منصوبوں سے رابطے کیے، دعا گو ہیں امن ہمیشہ کیلئے بحال ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے سفر پر گامزن ہیں، آج دنیا انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، خلیجی خطے میں بھی بحران موجود ہے، پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مخلصانہ کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ابھی تہران سے واپس آئے ہیں، فیلڈ مارشل اس اہم دورے کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، وہ رات بھر سفر میں رہے اور اس ملاقات میں شریک ہوئے۔