مئی کے مہینے میں پاکستانیوں کو چھٹیاں ہی چھٹیاں ملنے والی ہیں۔ اس حوالے سے کہیں 11 اور کہیں 19 تعطیلات کے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔
چھٹی سے شروع اور چھٹی ہی پر ختم ہونے والا مئی 2026 پاکستانی عوام کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ سرکاری تعطیلات، ویک اینڈز اور عید الاضحیٰ کی ممکنہ چھٹیوں کو ملا کر طویل تعطیلات کا سلسلہ بننے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
یہ مہینہ نہ صرف ملازمین بلکہ طلبہ اور کاروباری طبقے کے لیے بھی خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ تعطیلات کی تعداد عام مہینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دکھائی دے رہی ہے، جس نے عوامی دلچسپی میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایسے ادارے جہاں موجودہ کفایت شعاری مہم کے دوران جمعہ کو چھٹی دی جا رہی ہے، اس لحاظ سے مئی میں 19 چھٹیاں مل سکتی ہیں جب کہ جمعہ کی چھٹی کو ہٹا دیا جائے تو اگلے ماہ گیارہ چھٹیاں ملیں گی۔ بیشتر اداروں میں جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے عملاً دفتر نہ جانے کو ایک طرح سے چھٹی ہی سمجھا جا رہا ہے۔
ماہ مئی کا آغاز یکم مئی بروز جمعہ یومِ مزدور کی سرکاری تعطیل سے ہوگا، جو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی محنت کش طبقے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
اس سرکاری چھٹی کے فوراً بعد ہفتہ اور اتوار یعنی 2 اور 3 مئی کی ویک اینڈ تعطیلات آ رہی ہیں، جس کے باعث مہینے کے آغاز ہی میں مسلسل 3 دن کا بریک دستیاب ہوگا۔
اسی طرح مئی کے دوسرے ہفتے میں 8، 9 اور 10 مئی کو بھی جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات ایک ساتھ آ رہی ہیں، جو ملازمین کے لیے مزید ایک مختصر مگر کارآمد وقفہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
تیسرے ہفتے میں 15، 16 اور 17 مئی کو بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی، جہاں ویک اینڈ کی مسلسل چھٹیاں معمول کی زندگی میں وقفہ فراہم کریں گی اور لوگوں کو ذاتی مصروفیات کے لیے وقت ملے گا۔
چوتھے ہفتے میں 22، 23 اور 24 مئی کی تعطیلات بھی اسی طرز پر ترتیب دی گئی ہیں، جس کے باعث پورے مہینے میں تقریباً ہر ہفتے تین دن کا بریک دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ماہ مئی کی سب سے بڑی توجہ عیدالاضحیٰ کی ممکنہ تعطیلات پر مرکوز ہے، جو اس بار مئی کے آخری عشرے میں آنے کی توقع ہے اور اس کے باعث طویل چھٹیوں کا سلسلہ بن سکتا ہے۔
عید الاضحیٰ کی حتمی تاریخ کا انحصار ذوالحجہ کے چاند کی رویت پر ہوگا، جس کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 17 مئی کو ہونے کا امکان ہے اور اگر ذوالحجہ کا چاند 17 مئی کو نظر آ جاتا ہے تو عید الاضحیٰ 27 سے 29 مئی تک منائی جا سکتی ہے، جس کے ساتھ ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں شامل ہو کر طویل بریک بنائیں گی۔
دوسری صورت میں اگر چاند نظر نہ آیا اور مہینہ 30 دن کا مکمل ہوا تو عید 28 سے 30 مئی تک ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ 31 مئی بروز اتوار کی چھٹی بھی شامل ہو جائے گی۔ ان دونوں ممکنہ صورتوں میں عوام کو کم از کم 3 سے 5 دن کی مسلسل چھٹیاں میسر آ سکتی ہیں، جو سفر اور تفریح کے لیے بہترین موقع فراہم کریں گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر حکومت 25 مئی بروز پیر کو بھی اضافی تعطیل دے دیتی ہے تو 23 اور 24 مئی کے ویک اینڈ کے ساتھ ملا کر ایک طویل ترین بریک تشکیل پا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو تقریباً ایک ہفتے تک مسلسل تعطیلات ملنے کا امکان ہوگا، جو حالیہ برسوں میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔
مجموعی طور پر اگر پورے مہینے کی تعطیلات کو شمار کیا جائے تو مئی 2026 میں 11 سے لے کر 19 دن تک چھٹیاں بننے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ایک ریکارڈ ہوگا۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری مہم بھی اس صورتحال کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے، جس کے تحت کئی سرکاری محکموں میں 4 روزہ ورک ویک نافذ کیا گیا ہے۔
اسی طرح بعض تعلیمی اداروں میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار تینوں دن تعطیلات دی جا رہی ہیں، جس سے طلبہ کو بھی زیادہ آرام کا موقع میسر آ رہا ہے۔ مزید برآں سرکاری محکموں میں جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث عملی طور پر کام کے دن مزید کم محسوس ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ تعطیلات ایک طرف عوام کے لیے ذہنی سکون اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے معاشی اثرات پر بھی غور ضروری ہے۔ کاروباری حلقوں کے مطابق طویل تعطیلات سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ بعض شعبوں میں مالی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔