ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف “نو کنگز” کے نام سے بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے احتجاج میں تقریباً 70 لاکھ افراد نے شرکت کی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
نیویارک میں معروف ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے بھی مظاہرے میں شرکت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ “نو کنگز” تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کانگریس اور اپنے عملے کی مدد کے بغیر اپنے اقدامات جاری نہیں رکھ سکتے، اور بدعنوان رہنماؤں کو خود کو مالدار بنانے سے روکا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق اتوار کو بھی امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں تقریباً 3 ہزار 200 مظاہروں کی توقع ہے، جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے خلاف جنگ کے خلاف اسرائیل کے مختلف شہروں میں بھی بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ تاہم اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں ہونے والے مظاہرے میں خواتین اور معمر افراد بھی شریک تھے، جنہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی کی اور ایران پر جنگ کی مخالفت کی۔