واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ خوشخبری شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے؛ دو جہاز روزانہ اس آبنائے سے گزریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور تعمیری قدم ہے جو قابلِ تعریف ہے۔ یہ امن کی علامت ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سمت میں ہماری مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔مکالمہ، سفارت کاری اور اس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
ایران پر حملہ ایسی جنگ کی بنیاد ڈال رہا ہے جو عشروں جاری رہیگی: سربراہ ترک انٹیلی جنس سروس
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی کے دوران خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی راستہ سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ جنگی حالات کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی، امریکی صدر کی طرف سے اس ٹوئٹ کا شیئر ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔