’بشریٰ بی بی حساس ادارے کی معلومات عمران تک پہنچاکر اعتماد جیتتی رہیں، برطانوی جریدہ – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

’بشریٰ بی بی حساس ادارے کی معلومات عمران تک پہنچاکر اعتماد جیتتی رہیں، برطانوی جریدہ

برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ تیار کی ہے، جس کا عنوان ہے ’صوفی، کرکٹر اور جاسوس: پاکستان کا گیم آف تھرونز‘۔

عمران خان کی اپنی روحانی مشیر سے شادی نے ملک کو حیران کر دیا تھا، اب وہ یہ فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں یا جیل میں ہی رہتے ہیں۔

رپورٹ میں سابق وزیراعظم کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کے بعد نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے لکھا کہ 2010 کی دہائی کے وسط میں عمران خان ایک کمزور اور مایوس کن دور سے گزر رہے تھے، 1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو فتح دلانے کے بعد وہ ملک میں گھر گھر پہچانے جانے والے نام بن چکے تھے، لیکن جب وہ عمر کی 60 کی دہائی میں داخل ہوئے تو شہرت، چمک دمک اور پارٹیوں سے بھرپور زندگی انہیں ادھوری محسوس ہونے لگی، خان سیاست میں کوئی نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے تھے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں، جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ’روحانی مشاورت‘ کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی تھی، بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔

بعض مبصرین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے، جنہیں وہ عمران خان کے سامنے اپنی ’روحانی بصیرت‘ سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے حساس ادارے کی بشریٰ بی بی میں دلچسپی کی پہلی علامت اُن کی عمران خان کے ساتھ خفیہ شادی کے فوراً بعد سامنے آئی۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نے یہ رشتہ نہیں کروایا تھا لیکن ایسے اشارے ضرور موجود تھے کہ ادارہ اس تعلق سے فائدہ اٹھا رہا تھا، پاکستانی میڈیا میں گردش کرنے والی ایک کہانی کے مطابق سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کو نہایت باریک مگر مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ حساس ادارہ اپنے ایک افسر کے ذریعے آئندہ ہونے والے واقعات کی معلومات بشریٰ بی بی کے کسی پیر تک پہنچاتا جو اُسے آگے بشریٰ بی بی تک منتقل کرتا اور یہ انفارمیشن بشریٰ بی بی عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں، جب وہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا اپنی اہلیہ کی بصیرت پر یقین مزید پختہ ہو جاتا تھا۔

 

ایک سوال کے جواب میں سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے سیاسی وعدے صرف باتوں کی حد تک تھے، ہم نے اس میں سے کسی ایک پر بھی عمل ہوتے نہیں دیکھا، ہم نے ان کی پارٹی کے سینئر ممبران، ان کی کابینہ میں شامل وزرا، ان کے اراکین پارلیمنٹ سمیت درجنوں افراد سے رابطہ کیا تو اکثریت نے اعتراف کیا کہ عمران خان کی ناکامی کی وجوہات اسٹیلشمنٹ کے عنصر کے بجائے انتظامی تھیں۔

کالے جادو اور سیاست میں مداخلت سے متعلق سوال پر صحافی بشریٰ تسکین کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کو یاد ہو کہ جب بشریٰ بی بی کی شادی ہوئی تھی تو جمائمہ نے ایک ٹوئٹ کیا تھا، جس میں کالے جادو کا تذکرہ تھا لیکن بین الاقوامی میڈیا نے اس معاملے کو اس طرح سے رپورٹ نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے اس معاملے کو دیکھنا شروع کیا تو ہمارے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ ہم اپنے ادارے اور بین الاقوامی آڈینس کو کالے جادو یا روحانیت سے متعلق کس طرح سے سمجھائیں گے حالانکہ پاکستان میں تو اس طرح کے معاملات عام ہیں لیکن خوش قسمتی سے ہم جن جن لوگوں سے ملے اور جو ثبوت ہمارے ہاتھ آئے تو اس سے ہمارے لیے چیزیں آسان ہوتی چلی گئیں‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں خاتون صحافی کا کہنا تھا ’بشریٰ بی بی کے پاس گزشتہ برس بڑا اچھا موقع تھا وہ ایک بڑا کراؤڈ جمع کرنے میں کامیاب ہو چکی تھیں لیکن وہ پانی کے بلبلے کی طرح بہت جلد ایکسپوز ہوگئیں‘۔

بشریٰ بی بی کی جانب سے طلاق لے کر عمران خان سے شادی کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا ’جب اس حوالے سے ہماری خاور مانیکا سے بات ہوئی تو انہوں نے دوران گفتگو ایک جملہ کہا کہ ’بشریٰ بی بی بلا کی ذہین تھیں‘۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.