غزہ میں اسرائیل کی پیدا کردہ بھوک نے مزید 6 زندگیوں کے چراغ گل کردیے جبکہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے امدادی کے 16 متلاشیوں سمیت مزید 22 فلسطینی شہید ہوگئے، اسکاٹش وزیراعظم نے غزہ کی صورتحال کو واضح نسل کشی قرار دے دیا۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارتِ صحت نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے باعث 6 بالغ افراد جاں بحق ہو گئے۔
ان اموات کے بعد، اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے بھوک اور غذائی قلت سے جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 175 ہو گئی ہے، جن میں 93 بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب صہیونی فوج کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے زیرانتظام غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے مراکز کے اطراف امداد کے لیے جمع ہونے والے نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔