بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے پہلگام حملے کو سیکیورٹی کی ناکامی تسلیم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے گورنر سے استعفیٰ دینے اور کشمیری عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔
واضح رہے کہ رواں سال 22 اپریل کو بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں پہلگام کے پہاڑی مقام پر 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس ہولناک حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا اور اس قتل عام کی بین الاقوامی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما منوج سنہا نے کہا کہ’ میں اس واقعے کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، جو بلاشبہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی۔’
اس اعتراف کے بعد کئی بھارتی سیاستدانوں نے ان پر غفلت برتنے اور ذمہ داری قبول کرنے میں تاخیر کرنے پر شدید تنقید کی اور ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق کہا کہ سنہا دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے ’ غیر متعین اہلکاروں’ کو بچانا چاہتے ہیں۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ایکس پر کہا کہ’ “انہوں (سنہا) نے حملے کے 82 دن بعد آخرکار پہلگام کی ذمہ داری قبول کرلی، ایسا کرتے ہوئے وہ دہلی میں کس کو بچا رہے ہیں؟ کتنے دن، ہفتے یا مہینے اور لگیں گے جوابدہی کے لیے؟ کب استعفیٰ دیں گے یا برطرف ہوں گے؟’