وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان سے روس تک ٹرین شروع کرنے لگے ہیں جس کا افتتاح 19 جولائی کو وزیراعظم کرینگے، نو ٹرینز آؤٹ سورس کرچکے ہیں کل 41 ٹرین ہیں سب کو آؤٹ سورس کریں گے، 155 ریلوے اسٹیشنز پر سولرسسٹم لگانے جارہے ہیں۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ پچھلے ہفتہ میں نے وزیراعظم کو 45 منٹ تک ریلوے پر بریفنگ دی اس پر وزیراعظم نے کہا کہ آپ پہلے وفاقی وزیر ہیں جو خود بریفنگ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی ریلوے سے وابستہ ہے اگر ریلوے کے ٹریکس ٹھیک نہیں ہوں گے تو پاکستان کی وہ ترقی جس کا خواب ہم دیکھ رہے ہیں وہ پورا نہیں ہوگا، میں نے آتے ہی دو تین چیزوں پر فوکس کیا، بزنس کلاس میں لوگ سفر کرتے ہیں لیکن ٹرین ہوسٹس نہیں ہیں اس کے لیے ہم نے چھ ڈریسز تجویز کیے ہیں، پہلی بار ایسکیلیٹر انسٹال کیے ہیں ورنہ سامان قلی لے کر جاتے تھے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نے اربوں روپے کی ریلوے کی زمینیں واگزار کروا کردی ہیں، مجھے سو دن ہوئے ہیں، واش رومز بھی نئے بنو ارہے جس کی فیس سو روپے ہے، دوسرے مفت واش رومز بھی دستیاب ہیں، ہم سندھ میں بھی ویسٹ مینجمنٹ معاہدہ کرکے اسے آؤٹ سورس کررہے ہیں، فوڈ اتھارٹیز ریلوے اسٹیشنز پر نہیں جاسکتیں، ہم نے چاروں صوبوں کے فوڈ اتھارٹیز کے ڈی جیز کو درخواست کی ہمارے پاس اسوقت ویگن نہیں تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں محکمہ ریلوے فریٹ سے کما کر مسافروں پر خرچ کرتا ہے، 21 دسمبر تک مزید ریلوے ویگنز ہمیں مل جائیں گی، ابھی ہم رشیا ٹرین لے کر جارہے تھے لیکن ایران اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے تاخیر ہوئی اس کا روٹ تفتان، زاہدان اور ترکمانستان تھا عالمی معیار کی ٹرین کا وزیر اعظم 19 جولائی کو افتتاح کریں گے، ہم نو عدد ٹرینز آؤٹ سورس کرچکے ہیں کل اکتالیس ہیں سب کی سب ٹرینز کو آؤٹ سورس کرنا ہے۔