حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں تاکہ ڈنک مارنے والے جھنڈ سے بچا جا سکے۔
واٹکوم کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق یہ حادثہ شمال مغربی واشنگٹن ریاست میں کینیڈا کی سرحد کے قریب لنڈن کے علاقے میں پیش آیا۔
ٹرک میں تقریباً شہد کی مکھیوں کے تیس ہزار کلو گرام سے زائد چھتّے منتقل کیے جا رہے تھے۔
شیرف آفس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا۔ ”اب 250 ملین مکھیاں آزاد ہو چکی ہیں۔ مکھیاں بھاگنے اور جھنڈ بنانے کے خطرے کے پیش نظر علاقے سے دور رہیں۔‘‘
حادثے کے بعد علاقے کی سڑکیں بند کر دی گئیں جبکہ شہد کی مکھیاں کے ماہرین اور شہد کی مکھیاں پالنے والے افراد ان بے قابو ہو جانے والی مکھیوں کو قابو میں کرنے اور انہیں بچانے میں مصروف ہیں۔
شیرف آفس نے بتایا، ”ہماری کمیونٹی میں شہد کی مکھیاں پالنے والے ماہرین رضاکارانہ طور پر مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ پولینیشن کرنے والی لاکھوں مکھیوں کو بحفاظت بچایا جا سکے۔‘‘
حکام کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو دن میں مکھیاں واپس اپنے چھتّوں اور ملکہ مکھی کے پاس آ جائیں گی۔ مقصد یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مکھیوں کو زندہ رکھا جائے۔

مکھیوں کا زراعت میں کردار
شہد کی مکھیاں پھول دار فصلوں کی پولینیشن (زرخیزی) میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سو سے زائد اقسام کی فصلوں جیسے میوے، سبزیاں، گریاں، بیریز، مالٹے اور خربوزے وغیرہ میں پولینیشن کا کام کرتی ہیں۔
اس کی وجوہات میں کیڑے مار دوائیاں، بیماریاں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور متنوع خوراک کی سپلائی میں کمی شامل ہیں۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
