رواں مالی سال 24-2023 کی پہلی ششماہی کے دوران بجٹ کے 64 فیصد کے مساوی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ قرض کی ادائیگی پر اخراجات بڑھنے کی وجہ بلند شرح سود ہے، صرف سود کی ادائیگی پر 4.2 کھرب روپے خرچ ہوئے، گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سود کی ادائیگی پر 2.6 کھرب روپے خرچ ہوئے تھے۔
اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے رواں مالی سال میں قرض اور سود کی ادائیگی کیلیے 7.3 کھرب روپے رکھے ہیں، قرض اور سود کی ادائیگی کے لیے بجٹ کا 58 فیصد مختص ہے ، مجموعی طور پر مقامی اور بین الاقوامی قرض کا 80 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا۔
حکومت کو مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترقیاتی پروگرام پر 50 فیصد خرچ کرنا ہوتا ہے، مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 2.7 کھرب یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہوگیا جو گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 1.78 کھرب یا جی ڈی پی کا 2.1 فیصد تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبوں کا کیش سرپلس 289 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال 101 ارب روپے تھا، وفاقی حکومت کا مجموعی خسارہ جی ڈی پی کا 2.3 فیصد رہاجو گذشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 فیصد تھا۔
رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان کی مجموعی آمدن 4 کھرب سے زیادہ رہی، گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران پاکستان کی مجموعی آمدن 2.5 کھرب روپے تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پرائمری سرپلس 1.8 کھرب روپے رہا، اسی مدت میں ایف بی آر کی آمدن 30 فیصد اضافے سے 4.5 کھرب روپے رہی ہے۔