امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو مزید دس روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جھوٹی خبروں کے برعکس ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، اسی لیے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کی آخری تاریخ کو بڑھا کر 6 اپریل تک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی عوام امن معاہدے کے لیے دعاگو ہیں اور امریکا ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کا خیر مقدم کرے گا، بصورت دیگر جنگ کے فیصلے مختلف انداز میں کیے جاتے ہیں۔
کابینہ اجلاس کے دوران پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری قوت اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور اس کا نیوی کمانڈر بھی موجود نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کر کے یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے، جبکہ ایران کی فضاؤں میں امریکی طیاروں کی نچلی پروازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کا فضائی دفاعی نظام بھی کمزور ہو چکا ہے۔