انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور قابلِ اعتماد و قابلِ تصدیق اقدامات کرنے کے بجائے، افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف دشمنانہ ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورتِ حال کو مزید کشیدہ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا بروقت سراغ لگایا، انہیں ٹریک کیا اور ان کے اپنے متعین اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی انہیں ناکارہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں حملے کی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اپنے دفاع کے حق کے استعمال میں پاکستان نے افغانستان میں ایسے 10 مقامات پر درست اور محدود فضائی و ڈرون حملے کیے جہاں سے یہ ڈرونز لانچ کیے جاتے تھے اور ذخیرہ کیے جاتے تھے، یہ حملے درست، متناسب اور محدود نوعیت کے تھے اور صرف ان مخصوص فوجی اہداف تک محدود رہے جو پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کی کوشش سے براہِ راست منسلک تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کو، خواہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا خود افغان طالبان حکومت کی جانب سے، نہ قبول کرے گا اور نہ برداشت کرے گا، پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر پاکستان کے خلاف تمام دشمنانہ سرگرمیاں بند کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کرے، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے یا دشمنانہ کارروائیاں انجام دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے