وزیر خزانہ کی اہم ملاقاتیں، ڈیجیٹائزیشن، پی آئی اے اور ریکوڈک پر مشاورت

وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور کیش لیس ادائیگیوں کے فروغ پر زور دیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ فری لانسرز کو اعلیٰ مہارتوں کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق قانون سازی اور نگرانی پر کام جاری ہے۔

 

وزیر خزانہ نے ورچوئل اثاثہ جات کے عملی استعمال اور کم لاگت ترسیلاتِ زر پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سرکاری قرض اور رئیل اسٹیٹ کی ممکنہ ٹوکنائزیشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

 

محمد اورنگزیب نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے چیئرمین جان جوانووچ سے ملاقات کی، ملاقات میں پی آئی اے کے لیے طیاروں کی خریداری پر امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے مالی معاونت پر گفتگو ہوئی۔

 

وزیر خزانہ نے پی آئی اے کی بوئنگ 787 ڈریم لائنرز میں دلچسپی سے آگاہ کیا اور بوئنگ طیاروں اور انجنوں کی خریداری کے لیے مالی معاونت کے پیکیج پر زور دیا۔ گراؤنڈ کیے گئے بوئنگ 777 طیاروں کے لیے اسپیئر پارٹس کی فراہمی بھی زیرِ بحث آئی۔

 

پی آئی اے طیاروں کی پری ڈیلیوری ادائیگیوں کے لیے ممکنہ مالی معاونت پر بھی بات چیت کی گئی۔

 

ملاقات میں پاکستان میں ریفائنری اپ گریڈز کے لیے امریکی معاونت اور ریکو ڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی معاونت پر بھی گفتگو ہوئی۔

 

وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکو ڈک منصوبہ پاکستان کی مستقبل کی برآمدات کے لیے اہم ہے اور منصوبے میں تاخیر کی لاگت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

محمد اورنگزیب نے کہا کہ اہم شعبوں کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت متحرک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کی ڈیجیٹائزیشن اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P