کوئٹہ (سٹی رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کے ممبر سابق صوبائی وزیر امیدوار حلقہ پی بی 45 حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ 5 جنوری کو انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے عوام کے اعتماد پر پورا اترکر صوبے سے نفرت کی سیاست کا خاتمہ کریں گے ہم نے پہلے بھی 15 پولنگ اسٹیشن پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو جمعیت علمائ اسلام نظریاتی کے مرکزی و صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی اور حلقہ پی بی 45 سے جمعیت نظریاتی کے نامزد امیدوار عبید اللہ حقانی کاان کے حق میں دستبردار ہونے کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔اس موقع پر جمعیت نظریاتی کے ضلعی امیر قاری مہر اللہ، سید عبدالستار چشتی سمیت دیگر بھی موجود تھے،حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ حلقہ انتخاب کی تعمیر و ترقی کے لئے 9 ماہ میں جو کام کئے ہیں وہ عوام کے سامنے ہیں مخالفین نفرت کی سیاست کو پروان چڑھانے میں مصروف عمل ہیں شکست ان کی مقدر بنے گی 571 ووٹ لینے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ میں نے سابق دور میں کونسلر کے انتخابات میں حصہ لیکر 1700 ووٹ لئے تھے جوکہ بہت بڑا ریکارڈ تھا اس کے بعد 2008ئ میں عام انتخابات میں 4000 ہزار ووٹ سے زائد حاصل کرکے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا تھا۔ 2023ئ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی لیکن میری کامیابی مخالفین کو ہضم نہیںہوئی عدالتوں کے ذریعے ڈی نوٹیفائی ہوا اب انشائ اللہ عوام کی طاقت اور ووٹ کی پرچی سے دوبارہ کامیابی حاصل کرکے مخالفین کو شکست فاش دوں گا۔ ہم نے ہمیشہ عوام کی خوشحالی اور ترقی کی سیاست کی ہے مخالفین نے سرکاری مشینری کے استعمال کرنے کا جو پروپیگنڈہ کیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں حکومت ہماری ہے لیکن ہم ووٹ کی پرچی پر یقین رکھتے ہیں۔اس موقع پر مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ ہم نے غیر مشروط طور پر حاجی علی مدد جتک کے حق میں اپنے امیدوار کو دستبردار کرایا ہے ہمارا مطالبہ عوام کی ترقی و خوشحالی ہے جس کیلئے پیپلزپارٹی کے امیدوار کی بھر پور حمایت کریں گے۔ ہم نے ہمیشہ خالی ہاتھ ہوکر اپنے ضمیر کے مطابق حمایت اور مخالفت کی ہے کسی کی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کرتے پاکستان پیپلزپارٹی نے قوم و ملک کو 1973 کا آئین دیا قادیانیوں کو کافر قرار دیکر قادیانیوں کی سازشوں کو ناکام بنایا۔ حاجی علی مدد جتک کی کامیابی کیلئے گھر گھر جائیں گے اور اپنی تمام ترصلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ حاجی علی مدد جتک نے کہاکہ جمعیت نظریاتی نے کسی ڈیل کے بغیر ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔ایک سوال کے جواب میں حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ ہم صوبے سے نفرت کی سیاست کا خاتمہ کریں گے اور ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہوں گے مخالفین کو ہماری کامیابی ہضم نہیںہوتی اس لئے جھوٹے پروپیگنڈہ کرتے ہیں ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر مخالفت کی اس لئے ہماری جماعت کا نام جمعیت نظریاتی ہے مدارس ترامیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے ہمیں اعتماد میں نہیں لئے ہم بھی 1860ئ ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن چاہتے ہیں کیونکہ مدارس حکومت کے فنڈز کے بغیر لوگوں کے چندے اور اپنی مدد آپ کے تحت چلائے جاتے ہیں ان کی آزادی اور خود مختاری کو سلب نہیں ہونے دیں گے۔
Prev Post
You might also like