گوادر (این این آئی)گوادر میںمنافع بخش ایرانی تیل مکران بھر کے مسافروں کے لیے کربناک اذیت بن گیا،مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافر بسوں کی طویل قطاریں روزمرہ کا معمول بن گئیں جبکہ ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل کی روک تھام میں ناکامی کا خمیازہ عام مسافروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے اصل مسئلے کے خاتمے کے بجائے مسافر گاڑیوں کو مختلف چیک پوسٹوں پر گھنٹوں روک کر شدید مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین اور مسافروں کے مطابق متعدد چیک پوسٹوں پر مسافر بسوں کو طویل وقت تک اس لیے روکا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر ان سے کچھ چیک پوسٹ اپنے حصے کا تیل اتارتے ہیں، جس کے باعث سینکڑوں مسافر اذیت ناک انتظار پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مسافروں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اس تاخیر سے خواتین، کمسن بچے، بزرگ شہری اور بیمار افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، مگر متعلقہ حکام اس صورتحال کا نوٹس لینے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل واقعی مسئلہ ہے تو اس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف مو¿ثر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی اور مسافروں کو گھنٹوں سڑکوں پر روک کر انہیں سزا دینا نہ صرف انتظامی ناکامی کا ثبوت ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔شہریوں نے وفاقی اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر جاری اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، چیک پوسٹوں پر مسافروں کو درپیش غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا جائے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
You might also like
