خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ملکی مفاد میں فیصلہ کیا، اچھے نتائج نکلیں گے: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلہ کیا، اچھے نتائج نکلیں گے۔

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے مرحوم بشیر محمود ورک کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مرحوم بشیر محمود ورک کے ساتھ ان کا بھائیوں جیسا تعلق تھا، وہ انتہائی شفیق انسان تھے اور سیاست کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بشیر ورک کے ساتھ ان کے قریبی اور برادرانہ تعلقات تھے اور انہوں نے پارٹی کے ارکان اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہمیشہ مل کر کام کیا۔

وزیراعظم کا خیبرپختونخوا کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی، خیبرپختونخوا کے دونوں وزرائے اعلیٰ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، تاہم تعاون کے بجائے آئے روز لانگ مارچ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کی پیشکش کی، لیکن سیاسی محاذ آرائی کے باعث معاملات میں مشکلات پیدا ہوئیں۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کے باعث پورے پاکستان کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے، گزشتہ سال بھی سب نے تماشا دیکھا، اس بار بھی مکمل خون ریزی کا منصوبہ تھا۔

شہباز شرہف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ بھیانک ہے اور جماعت نے ہر لحاظ سے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، وزیراعلیٰ کو دہشت گردی کے خلاف مل کر چلنے کا کہا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق ہوا تھا، تاہم آخری وقت میں مسودے کو منظور کرنے سے انکار کر دیا گیا، مذاکراتی کمیٹی نے معاملے کے حل کے لیے رات بھر بیٹھ کر کوششیں کیں، لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی نے اختلافات ختم کرنے اور معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی، آخری وقت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مسودہ منظور نہیں، جس کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی۔

شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ اس بار مخالف فریق نے خون ریزی کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، حکومت نے پاکستان کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس فیصلے کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P