ریاست آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے کشمیر بند پڑا ہے اسے بھی کھلوا دے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ریاست آبنائے ہرمز کھلواسکتی ہے تو میری درخواست ہے کہ کشمیر بند پڑا ہے اسے بھی کھلوا دیا جائے۔

ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا اہم الیکشن ہے
ہم نے ایسے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے، یہ ریاست اور سیاسی جماعتوں کیلیے بڑا امتحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کا کام صرف اقتدار لینا نہیں بلکہ عوام کیلیے آواز اٹھان ہے، جب سیاست دان اپنا کام نہیں کرتے تو بحران پیدا ہوتا ہے اور غیر سیاسی قوتیں و انتہا پسند میدان میں آجاتے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ریاست آبنائے ہرمز کھلواسکتی ہے تو میری درخواست ہے کشمیر بند پڑا ہے اُسے بھی کھول دیا جائے، میں نے مصالحتی کمیشن بنانے کی تجویز دی مگر حکومت اور مظاہرین کی طرف سے اُس کا کوئی جواب نہیں آیا، میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ کمیشن کی فائنڈنگ تک کارروائیاں روک دے جبکہ مظاہرین بھی احتجاج ختم کر کے گھروں کو چلے جائیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاج کرنے والے غلط ہوں گے لیکن حکومت صرف احتجاج کرنے والوں کو نہیں بلکہ سب کو دے رہی ہے، کیسا انصاف ہے آزاد کشمیر میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ نہیں چل رہا، مسئلہ کشمیر کا نہیں گلگت بلتستان کا بھی ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ کشمیر کے عوام 27 جولائی کو بھاری اکثریت سے پیپلزپارٹی کے نمائندوں کو کامیاب کروائی اور ہمیں موقع دیں، آصفہ اور میں مل کر آپ کو حق حاکمیت، حق مالکیت اور حق روزگار سمیت قائد عوام کے وعدے کے مطابق جو چیزیں رہ گئیں وہ دلوائیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہوئی میں آواز اٹھاؤں گا، ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہیں کیا جاسکتا،مسائل کا حل ہے ہم تجاویز دے رہے ہیں، پیپلزپارٹی سمجھتی ہے تمام وسائل کشمیریوں کے ہیں،

انہوں نے کہا کہ مصطفرآباد سے سری نگر تک حق مالکیت کشمیریوں کا ہے، دریا، پہاڑ، زمینیں گھر سب کشمیریوں کا ہے، ہم مودی کی زمین سلب کرنے کی کوشش کو بھی ناکام کروائیں گے۔ بلاول نے کہا کہ قائد عوام کے وعدے کے مطابق گلگت بلتستان میں حق مالکیت کی قانون سازی کرلی اب عوام میں زمین تقسیم ہورہی ہے، قائد عوام نے کچی آبادیوں والے کو مالکانہ حقوق دلوائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ 27 جولائی کو عوام ووٹ دیں تو حق حاکمیت، حق مالکیت اور حق روزگار کی جدوجہد لڑیں گے جبکہ کشمیریوں کو مزید حقوق دلوانے کیلیے ترامیم بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے الیکشن میں دو جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری مسلم لیگ نواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میر پور، کوٹلی، روالاکوٹ کو کشمیر کا حصہ ہی نہیں مانتی، یہ کونسا شیر ہے جو کشمیر، ڈڈیال، میرپور، راولاکوٹ کو کشمیر کے نقشے سے کھا گیا۔ بلاول نے کہا کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو کراچی، بلوچستان، پختونخوا میں دفن کیا، 27 جولائی کے بعد یہاں پر بھی تقسیم کی سیاست کو ختم کریں گے، میں آپ کو کشمیری مانتا ہوں، لسانیت کے نام سے سیاست کرنا غلط ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک وزیر نے کشمیریوں سے متعلق بیان دیا، 30 دن کے بعد وزیر صاحب وہیں کے وہی ہیں جبکہ میں نے اور راجہ پرویز اشرف نے موقع دیا کہ واضح کریں کہ وضاحت کریں مگر وہ ڈھیٹ بن کر آئے اور کہا کہ اپنی بات پر قائم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر اپنی بات پر قائم ہیں تو پھر وہ وزارت کو چھوڑ دیں یا پھر وضاحت کریں کہ یہ وفاق کا خیال ہے یا ذاتی خیال ہے، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ بلاول نے کہا کہ وزیراعظم کو وضاحت کرنی چاہیے کہ وزیر دفاع نے جو کہا کیا یہ وفاقی حکومت اور کابینہ کی پالیسی ہے، اگر آپ کی پالیسی ہے تو پھر وزیر دفاع کو رکھیں ورنہ لات مار کر باہر نکالیں، پیپلزپارٹی کشمیریوں کے ساتھ اس طرح کی انصافی برداشت نہیں کرے گی۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ دوسرا وفاقی وزیر کہتا ہے 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں، جس کی ذہنیت یہ ہے کہ اُس کو منتخب ہونے والے کی پرواہ نہیں، کیونکہ جیب کی 12 سیٹوں پر حکومت بنتی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل اور فیصلے اسلام آباد، پنڈی، فیصل آباد کی جیب میں نہیں بلکہ کشمیر کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔

Wildlife

بلاول بھٹو نے کہا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں شیر کا شکار کریں گے، مہاجرین کی نشستوں پر بھی پیپلزپارٹی کو ووٹ ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے نمائندے نے الیکشن جیت کر آنا اور بتانا ہے کہ عوام کشمیر کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P