غزہ میں جاری جارحیت پر اسرائیلی حکومت کے اندر اختلافات رواں ہفتے کھل کر سامنے آگئے جب وزیر دفاع نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے واضح حکمت عملی سامنے لانے کا مطالبہ کیا جب کہ فوجیں ان علاقوں میں حماس کے جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کے لیے واپس آ گئیں جہاں وہ مہینوں پہلے لڑ رہی تھیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع گالینٹ کا بیان جس میں جنہوں نے کہا کہ وہ غزہ میں فوجی حکومت قائم کرنے پر راضی نہیں ہوں گے، نتن یاہو کی طرف سے اس بارے میں کوئی ہدایت نہ ملنے پر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد غزہ کو کون چلائے گا۔
وہ کابینہ میں موجود سینٹرسٹ دو سابق فوجی جرنیلوں، بینی گینٹز اور گاڈی آئزن کوٹ جنہوں نے وزیر دفاع کے مطالبے کی حمایت کی اور سخت دائیں بازو کی قوم پرست مذہبی جماعتیں جن کی قیادت وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ اور داخلی سلامتی کے وزیر اتمار بین- گیویر کر رہیں جنہوں نے ان کے بیان کی مذمت کی، کے درمیان شدید تقسیم کو بھی سامنے لائے۔