چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ غلط خبر پر کوئی معافی تک نہیں مانگتا، بس فون اٹھایا اور صحافی بن گئے کہ ہمارے ذرائع ہیں، کسی کے کوئی ذرائع نہیں، ہم کچھ کرتے نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھر پھینکے جاؤ، بیرون ملک ایسا ہوتا تو ہتک عزت میں جیبیں خالی ہو جاتیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
چکوال سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار راجہ شیر بلال، ابرار احمد اور ایم آصف ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے اور درخواست گزار کمرہ عدالت میں درخواست دائر کرنے سے ہی مکر گئے۔درخواست گزاران کا موقف تھا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہی نہیں کی۔