ویب ڈیسک
آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف حکومتی اخراجات میں کمی سے مشروط کردیا
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان معاشی مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود ابھی تک اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں ہو سکا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان 15 روز تک جاری رہنے والے ورچوئل مذاکرات کے بعد بھی بعض امور پر مزید بات چیت درکار ہے جس کے باعث مذاکرات آئندہ چند روز تک جاری رہیں گے۔
اس حوالے سے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے معاشی پروگرام پر مجموعی طور پر عمل درآمد فروری 2026 کے اختتام تک حکومتی وعدوں کے مطابق رہا ہے، تاہم مختلف شعبوں میں مزید اصلاحات پر بات چیت جاری ہے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف (Resilience and Sustainability Facility) کے دوسرے جائزے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان 25 فروری سے 11 مارچ تک تفصیلی مذاکرات ہوئے جن میں پاکستانی معاشی ٹیم اور بین الاقوامی ادارے کے ماہرین نے مختلف اقتصادی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، مہنگائی پر قابو پانے اور سرکاری مالیات کو مستحکم بنانے جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور ماحولیاتی لچک بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کئی اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آر ایس ایف پروگرام کے تحت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
دونوں فریقوں کے درمیان سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں سرکاری اخراجات بڑھانے کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی شعبوں پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
اعلامیے میں عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مالی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی کی صورتحال پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ جاری جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو اپریل کے آخر تک ای ایف ایف پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف پروگرام کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی مزید مالی معاونت حاصل ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔