پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و قبائلی شخصیت میرشفیق الرحمان مینگل نے گزشتہ روز وڈھ باڈڑی میں اپنے رہائشگاہ پر پارٹی عہدیداران اور قبائلی عمائدین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں بہادری سکھائی انکے نقش قدم پرچلتے ہوئے اپنے قوت بازو سے دشمن کی دانٹ کھٹے کردیئے۔ میر شفیق الرحمان مینگل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خضدار(بیورورپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و قبائلی شخصیت میرشفیق الرحمان مینگل نے گزشتہ روز وڈھ باڈڑی میں اپنے رہائشگاہ پر پارٹی عہدیداران اور قبائلی عمائدین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی خضدار شہزاد سٹی میں واقع میری رہائشگاہ پر درجن بھرمسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے بلوچی روایات اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت ہمارے بہادر جوانوں نے جس جرات وبہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنا دیا وہ ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہیگا پہلی بار خودکش بمبارز کو بھاگتے ہوئے دیکھا گیا ہمارے جانباز ساتھیوں کے ان دہشت گردوں سے مقابلے کی سی سی ٹی سی فوئیج ہمارے پاس موجود ہیں اس می دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ان کو پیچھے دھکیلا اور مار بھی دیا جنہیں ریلیز کردیا جائے گا۔ میر شفیق الرحمان مینگل کا کہنا تھاکہ ہمارے آبائو اجداد نے ہمیں بہادری سکھائی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم نے اپنے قوت بازو سے دشمن کے دانت کھٹے کردئیے ہیں اس بزدلانہ حملے میں ہمارے 17 بہادر ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا ان کی شہادت اس وقت ہوئی جب ابتداء میں خودکش بمبار نے گیٹ پر اپنے آپ کو اڑایا اس کے بعد چند ہی لمحوں میں میرے بہادر ساتھی ان کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور چن چن کر ان دہشت گردوں کو ماردیا یہ گھمسان کی لڑائی چالیس منٹ تک شدت کے ساتھ اور کل تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہے اور بالآخر ہم فتح یاب ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی اور بلوچی روایات کی پامالی کرنے والے عناصر سے درحقیقت یہی امید کی جاسکتی ہے جنہوں نے روز اول سے ہر مظلوم کو نشانہ بنایا ہے ، میر شفیق الرحمان مینگل کہنا تھا کہ اس گھمسان کی لڑائی میں ہم نے کسی سے مدد طلب نہیں کی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ میری رہائش گاہ سے ایک سو یاڈیڑھ سو میٹر فاصلے پر پولیس لائن قائم ہے اس پولیس لائن کی وجہ سے ہمیں کافی مشکلات پیش آئیں انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران کچھ دہشت گرد پولیس لائن میں گھس کر اس کی دیواروں کو ڈھال بنا کر ہم پر گولیاں چلائیں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور پولیس لائن کے چھت پر چڑھ کر حملہ کرتے رہے اس تمام معاملات کی ذمہ داری خضدار میں پولیس کو کمانڈ کرنے والے آفیسرز پر ہوتی ہے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی خضداراس جرم میں براہ راست شامل ہیں اور جب پولیس کا ہمارے ساتھ یہ حال تھا تو عام شہریوں کے ساتھ ان کا کیا رویہ ہوگا انہوں نے صوبائی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی خضدار رینج اور ایس ایس پی خضدار و متعلقہ آفیسران کے خلاف ان کے اس گھناؤنا عمل پر کاروائی نہیں کی گئی تو صوبائی قیادت اس کے ذمہ دار اور برابر کا شریک ہوگا میر شفیق الرحمان مینگل کا کہناتھا کہ ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں کہ کس طرح دہشت گردوں نے پولیس لائن کے عمارت کو استعمال کیا اور ہم پر حملہ آور ہوئے بلکہ پولیس نے اپنی خفت مٹانے کے لیے اپنی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کردیئےانہوں نے سوال اٹھایا کہ لیویز کو پولیس میں ضم کرکے ان کو جدید خطوط پر اس لیئے استوار کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پیچھے ہٹ کر ان کو اپنے عزائم میں کامیاب ہونے دے؟ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالٰی نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو یہ ہمت اور جرات عطاء کی ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے آپ پر انحصار کیا کہ اپنے دشمن اسلام کے دشمن اور پاکستان کے دشمن سے لڑنا سیکھا اور ہمیشہ انہیں بھرپور جواب دیا ، اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور سے مدد طلب کرنا ہماری تاریخ میں کبھی نہیں رہی ۔ پولیس کمانڈنگ کا ذکر میں اس لیئے کررہا ہوں کہ وہ میر ے گھر کے سامنے ہوتے ہوئے دیدہ دانستہ طور پر شریک جرم رہے اور دہشت گردوں کی معاونت ان پر ثابت ہوگئی ، جو کہ پولیس کی ناقابل فراموش جرم ہے میر شفیق الرحمان مینگل کا کہناتھاکہ ہماری وابستگی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے درحقیقت یہ جماعت بھی شہداء کی جماعت ہے اور اس جماعت سے وابستہ لوگ ایسے حالات سے قطعاً نہیں گھبراتے ، انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے انگریزوں کے زمانے میں بھی ظلم کے خلاف حق کا علم بلند کیااور حق کا ساتھ دیا آج تک ان کی تاریخ زندہ و جاوداں ہے اور اس حق کے جھنڈے کو ہاتھ میں لیئے میں اور میرے ساتھی آگے بڑھارہے ہیں آج میں اور میرے کاروان کے ساتھی دور حاضر میں ایسے عناصر کے خلاف سربکف ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نظریہ پاکستان اور پاکستان سےمحبت کرنے والے لوگ ہیں اور پاکستان کا تعلق اسلام سے ہے پاکستان واحد ملک ہے جس کا قیام اسلام کے نام پر عمل میں آیا ہے ، انہوں نے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت آئینی سربراہ انہوں نے مسلسل رابطہ رکھا اور ہماری خیریت دریافت کی صدر مملکت کے اس عمل نے میرے اور میرے کاروان کے ساتھیوں کو حوصلہ دیا ان کے اس عمل سے ہمارے حوصلے شاشان کےپہاڑوں سے بھی بلند ہوگئےمیر شفیق الرحمان مینگل نے قوم پرست جماعتوں پر الزام عائد کیا کہ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج بلوچستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے اگر ماضی میں قوم پرست جماعتوں کا رویہ نظریہ پاکستان کے مخالفین کے ساتھ سخت رہتا تو دہشت گرد اس نھج تک نہیں پہنچ پاتے انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے اسلامی نظریہ اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں کردار ادا کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو اسلامی آئین کا تحفہ دیا اور قادیانیت کےخلاف سربکف کھڑے ہوکر قادیانیوں کو کافر قرار دیا آج اس ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی اسلامی ریاست بنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ جیسے کہ آپ تمام کے علم میں ہے کہ ابتدائی طور پر حق نا توار اس کے بعد جھالاوان عوامی پینل اور حال ہی میں ہم پیپلز پارٹی میں ضم ہو چکے ہیں روز اول سے ہمارے سینکڑوں جانبازوں نے پاکستان کے نظریہ پر جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور گزشتہ دنوں ہمارے کاروان کےسترہ دلیروں نے بھی اسی تناظر میں جام شہادت نوش کیا ، انہوں نے اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس فتنہ کے دور میں جہاں کئی لوگ اسلامی تعلیمات سے دوری اختیار کرکے غیر کی پیروی کررہے ہیں لیکن ہمارا قافلہ اس دور میں بھی اسلامی تعلیمات کی پیروی کرکے نظریہ پاکستان پر عمل پیرا ہے ۔ مودی اور فتنہ الھندستان کے بزدل دہشت گردوں نے میرے گھر کے پڑوس میں خواتین اور بچوں و گھروں کا احترام بھی نہیں کیا اور انہیں یرغمال بناکر ہم پر حملہ آور ہوئے انہوں نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے اسلامی بلوچی روایات کو مسخ کردیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد سنڈیمن سردار کے کوکھ سے جنم لے چکے ہیں خود ان کی تاریخ وڈھ میں مسخ شدہ ہے کس جرم کے پاداش ان کے پیش رو رحیم خان قتل کردیئے گئے تاریخ اس کی گواہ ہے پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنماء میر شفیق الرحمان مینگل کا مذید کہنا تھاکہ وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی میرے ہمدرد بھائی ہے وہ شہداء کے وارث ہیں وہ اس دہشت گردانہ حملے میں میرے ساتھ رابطے میں رہے تاہم صوبائی وزارت داخلہ کاکردار اطمینان بخش نہیں تھا۔ میر شفیق الرحمان مینگل کا کہنا تھاکہ اللہ تعالٰی کی حاکمیت کو مانتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسل اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جنگ بدر کے شہداء ہمارے آئیڈیل ہیں اور ہمیں اپنے شہداء و قربانیوں پر فخر حاصل ہے انشاءاللہ العزيز دشمن دہشتگردوں کو ناکامی نصیب ہوگی ۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین خضدار حاجی محمد اقبال مینگل حاجی خان جان مینگل میر نوراحمدمینگل پیپلزپارٹی کےعہدیداران رفیق سجاد، محمد اسماعیل زہری سجادزیب حسنی سردارزادہ میر شہزاد خان غلامانی میرعتیق الرحمان ساجدی نصراللہ شاہوانی سمیت دیگر سیاسی و قبائلی شخصیات کثیر تعداد موجود تھے۔
