وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نےکہا ہے کہ وفاقی حکومت کی مالی گنجائش سکڑ رہی ہے، ترقیاتی اخراجات کم ہونا تشویشناک ہے، وفاقی حکومت کے حصے میں اب 11 کھرب کے وسائل بچیں گے،تقریباً سوا 8 کھرب قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے،باقی پیسے دفاع کے اخراجات میں خرچ ہو جائیں گے۔
اسلام آباد میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کو بھرپور ترجیح دی ہے، رواں مالی سال کے لیے قومی ترقیاتی پلان 4200 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جو کہ پچھلے 2 برس میں 50 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مالی گنجائش سکڑ رہی ہے، فسکل اسپیس سکڑنے سے ترقیاتی بجٹ سکڑ کر 0.8 فیصد پر آگیا ہے، قومی سطح پر ترقیاتی اخراجات کم ہونا تشویشناک ہے۔ وفاقی حکومت کے حصے میں اب 11 کھرب کے وسائل بچیں گے، تقریباً سوا 8 کھرب قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے، بقیہ پیسے دفاع کے اخراجات میں خرچ ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اگرچہ پی ایس ڈی پی کی مالیت کچھ کم ہے، مگر ترقیاتی اہداف بڑھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے لیے 230 ارب روپے، کراچی-چمن شاہراہ کے لیے 100 ارب روپے اور ایم-8 منصوبہ بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔