احتجاج کیس: خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی سے بیانِ حلفی طلب

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ ہوں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جج کو بادشاہ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔

 

بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے روسٹرم پر آکر دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں کی آزادی کے سخت حامی ہیں، پنجاب میں شیلنگ ہوتے اور پولیس اہلکاروں کو شہید ہوتے دیکھا ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف بیان دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس درخواست میں فریق نہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں موجود ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری اپنے صوبے کے ہر شہری کو محفوظ رکھنا ہے، انہوں نے کہا کہ کرمنل کانسپریسی جہاں ہوتی ہے وہاں کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی ذمہ داری بنتی ہے، ان دھرنوں سے پنجاب کا کاروبار بھی متاثر ہوا، جلوسوں میں کرینز ہوتی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کوئی سیاسی فورم نہیں بلکہ قانونی فورم ہے۔

 

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے درخواست کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں اٹھایا اور کہا کہ عدالت جو بھی ہدایت دے گی اس پر عمل کیا جائے گا، بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بھی دلائل دیئے ۔ عدالت نے سماعت کے اختتام پر خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیان حلفی طلب کرلیا اور قرار دیا کہ ان دونوں افسران کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں، فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P