برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے دفاعی معاہدے کی وجہ سے ایران کو دیا گیا پاکستان کا یہ انتباہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی فوجی کردار صرف سعودی حدود کے دفاع تک محدود رہے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران کو دیا گیا پیغام واضح ہے کہ یا تو وہ حوثیوں کو لگام دے یا ایک پراکسی تنازع کو وسیع تر علاقائی سکیورٹی بحران میں تبدیل کرنے کا خطرہ مول لے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک سینیئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو یہ پیغام پہنچایا ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے رکوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
خبررساں ایجنسی نے کہا کہ ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ ریاض میں سعودی حکام نے سینیئر پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات کر کے اپنے ردعمل کو مربوط بنانے پر غور کیا ہے اور تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی فوجیں یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی قسم کا جوابی عمل سعودی حدود سے ہی دیا جائے گا۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اور پاکستانی ذریعے نے کہا کہ جوابی حملوں میں شامل ہونے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔، سعودی عرب کے ساتھ ان کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور سعودی سرزمین کی حفاظت تک محدود ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن غیر ملکی سرزمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔
خیال رہے کہ حوثیوں نے منگل کے روز سعودی عرب میں خمیس مشیط میں ایک ائیربیس اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
یہ رواں سال فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک