کوئٹہ (سٹی رپورٹر) ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) مہر اللہ بادینی نے کہاہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز میں کوئٹہ کے 679 سکولوں میں داخلہ مہم کے دوران 34 ہزار بچوں کو داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے700 سے زائد اساتذہ کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جائے گا اور 70 فیصد غیر فعال سکولوں کو فعال بنادیا گیا ہے والدین بچوں کو سکولوں میں داخل کرائیںہماری کوشش ہے کہ تعلیم کے حوالے سے کوئٹہ کو رول ماڈل بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اپنے دفتر میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد انور کاکڑ، ڈی ای او نصیر شاہ ، عزیز الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانے کے لئے تعلیمی اداروں کو فعال بنانے اور اساتذہ کے استعداد کار کو بڑھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ طلبائ کو تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کیلئے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر داخلہ مہم شروع کی ہے جس کا مقصد تعلیمی اداروں سے باہر رہنے والے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کراکر انہیں تعلیم دیکر معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جاسکے۔ انہوںنے کہا کہ کوئٹہ شہر میں 679 سکولز موجود ہے جن میں اس وقت 1لاکھ 72 ہزار طلبائ زیر تعلیم ہیںانہوں نے کہا کہ ہم نے محکمہ تعلیم کے ساتھ ملکر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر داخلہ مہم شروع کی ہے اور اس حوالے سے کوئٹہ میں رواں برس 34 ہزار بچوں کو سکولز میں داخلہ کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور بچوں کو جدید علوم سے روشناس کرانے اور معاشرے کا پڑھا لکھا نوجوان بنانے کے لئے ان تعلیمی اداروں میں700 سے زائد اساتذہ کو کنٹریکٹ بنیاد پر بھرتی کرنے کا عمل شروع کردیا گیا جس پر تیزی سے کام جاری ہے حکومت نے نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے تقریباً 70 فیصد غیر فعال سکولز کو فعال بناچکے ہیں جہاں پر تعلیمی سرگرمیاں تواتر کے ساتھ جاری ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے ہی بلوچستان اور پاکستان کی تقدیر بدل کر ترقی دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کے دوران ہمارے معاشرے کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور خصوصاًوالدین سے درخواست ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکولز میں داخل کرائیںاسکولز میں بچوں کے لئے کھانے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے کوشش ہے کہ تعلیم میں کوئٹہ کو رول ماڈل بنایا جائے اس کے لئے حکومت محکمہ تعلیم اور تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
You might also like