کوئٹہ : صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کوئٹہ کے سرکاری اسکولوں میں درسی کتب کی کمی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کردی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں دو روز کے اندر اندر درسی کتابوں کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ صوبائی وزیر نے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی، ڈائریکٹر اسکولز اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور درسی کتب کی ترسیل کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی سطح پر غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اس سلسلے میں چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے جمعرات کے روز کوئٹہ کے سرکاری کتب اسٹور کا ہنگامی دورہ کیا اور موقع پر موجود عملے کو سختی سے ہدایات دیں کہ دو دن کے اندر اندر تمام سرکاری اسکولوں تک درسی کتب کی ترسیل مکمل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی اور تمام متعلقہ عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرے۔صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان اور سیکرٹری لعل جان جعفر کی نگرانی میں صوبے کے بیشتر اضلاع، بالخصوص دور دراز علاقوں میں درسی کتب کی ترسیل کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ تاہم سال 2026 میں داخلہ مہم کی کامیابی اور غیر فعال اسکولوں کی فعالیت کے باعث طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مزید درسی کتب کی ضرورت پیش آئی۔انہوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے تحت اضافی کتب کو کوئٹہ کے مرکزی اسٹور تک پہنچا دیا گیا ہے اور ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان کتب کو اسکولوں تک شفاف اور مو¿ثر انداز میں تقسیم کریں۔ اس حوالے سے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو بھی سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ ترسیل اور تقسیم کے عمل کی خود نگرانی کریں اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ غیر فعال اسکولوں کی بحالی اور داخلہ مہم 2026 کے نتیجے میں اسکولوں کی جانب سے درسی کتب کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جسے ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی تاکہ کسی بھی بچے کی تعلیم وسائل کی کمی کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔
You might also like