ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے موجودہ صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت بھی عملی طور پر حالتِ جنگ میں ہے اور خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی مذاکرات دراصل ایرانی قوم کی کامیابی ہیں، کیونکہ ایران نے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہوئے فریق مخالف کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔
لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا کہ دشمن کو مذاکرات کی میز پر جھکنا پڑا، جو ایران کی سفارتی اور دفاعی حکمتِ عملی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان نے امریکی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل کے ذریعے خود کو ناقابلِ اعتماد ثابت کیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ہونے والے جوہری مذاکرات کے دوران بھی فریقِ مخالف کا رویہ اس بات کا غماز تھا کہ اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 40 دن تک جاری رہنے والی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے بعد دو ہفتوں پر مشتمل عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے روک دیے جائیں گے، جبکہ تہران نے بھی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں کمی اور وقتی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، جس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں ثالثی کا کردار شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ادا کیا۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ دونوں فریقین نے صبر، دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی راہ اختیار کی، جو عالمی امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت