عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی تیل ڈبلیو ٹی آئی 91.48 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے، جس میں 18 سینٹ یا 0.20 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح برطانوی برینٹ خام تیل 96.28 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا، جس کی قیمت میں 76 سینٹ یا 0.80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب اماراتی مربان خام تیل 103.30 ڈالر فی بیرل پر رہا تاہم اس کی قیمت میں 1.42 ڈالر یا 1.36 فیصد کمی ہوئی۔ عالمی منڈی میں قدرتی گیس کی قیمت 2.975 ڈالر فی یونٹ ریکارڈ کی گئی، جس میں 6.2 سینٹ یا 2.13 فیصد اضافہ ہوا۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت مجموعی طور پر 7.6 فیصد جبکہ امریکی تیل WTI کی قیمت تقریباً 10 فیصد بڑھی، مارکیٹ میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات نے قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں، پاکستان نے جولائی 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ جائزے اور تعین کا نظام متعارف کرایا تھا، جس کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں کی تبدیلی کے مطابق مقامی قیمتوں میں بھی تیزی سے ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔
تازہ ترین فیصلے کے مطابق 5 سے 7 ستمبر 2026 تک پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 345.87 روپے فی لیٹر مقرر ہے، پیٹرول کی قیمت میں تین دنوں کیلئے 3.13 روپے کمی کی گئی تھی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3.74 روپے اضافے کے بعد 378.05 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔
حکومت پیٹرول پر اس وقت 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے کیونکہ ملک اپنی پیٹرولیم ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے پاکستان میں بھی پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔
