بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف ایسے حملے کر سکتا ہے جن کی شدت دوسری جنگِ عظیم کے بعد مثال بن جائے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری مسلسل سفارتی حل اور تحمل پر زور دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے بیانات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی اثرات مرتب کر سکتے
