وہ فلم جو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے

ایک اچھی فلم وہ ہوتی ہے جس کی کہانی لوگوں کے ذہن سے محو نہ ہوسکے بلکہ کئی برس بعد بھی سوالات کے جواب ڈھونڈنے پر مجبور کردے۔

اور ایسی فلموں کی کمی نہیں جن کی کہانی اتنی پیچیدہ ہوتی ہے جو لوگ ایک بار دیکھ کر سمجھ نہیں پاتے اور بار بار دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ فلمیں مسحور بھی کر دیتی ہیں اور یہی ان کا کمال ہے، یعنی ذہنوں کو الجھانے کے ساتھ ساتھ ناظرین کو اسکرین سے نظریں ہٹانے نہیں دیتیں۔

ایسی ہی ایک سائنس فکشن فلم جس کو اکثر افراد بار بار دیکھتے ہیں اور پھر بھی اکثر پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

یہ فلم ہے انسیپشن، جس کے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان تھے اور ریلیز کے 16 سال بعد بھی ہر ماہ متعدد افراد کہانی کی وضاحت کے لیے گوگل سرچ انجن کا رخ کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر نے پہلے اسے سائنس فکشن کی بجائے ہارر فلم کے طور پر بنانے کا سوچا تھا مگر بعد میں کہانی کو بدل دیا۔

خوابوں کے گرد گھومنے والی اس فلم کو 2010 میں ریلیز کیا گیا تھا جس میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے مرکزی کردار ادا کیا۔

فلم کی کہانی

وہ فلم جو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے
فلم کے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان تھے / اسکرین شاٹ

فلم کا دل ڈوم کوب (لیونارڈو ڈی کیپریو) کا کردار تھا جو اداروں کی معلومات چرانے میں مہارت رکھتا ہے مگر اس کی خاصیت لوگوں کے خوابوں میں گھس کر ان کے لاشعور سے رازوں کو چرانا ہے۔

اس خاصیت نے کارپوریٹ دنیا میں اس کی مانگ بڑھا دی مگر اس کی قیمت بھی اس چور کو ہر اس چیز کی صورت میں چکانا پڑی جس سے اسے محبت تھی۔

مگر اسے جو نیا کام ملتا ہے وہ چوری نہیں بلکہ ایک شخص کے ذہن میں ایک نئے خیال کا بیج بونے سے جڑا ہوتا ہے۔

ٹام ہارڈی، ایلن پیج اور جوزف گورڈن نے ڈوم کوب کی ٹیم میں شامل افراد کے کردار ادا کیے تھے اور اس مقصد کے لیے وہ خوابوں کی دنیا کے متعدد لیولز میں سفر کرتے ہیں اور اس دوران وہاں پھنس جانے کے خطرے کا سامنا بھی کرتے ہیں۔

وہ فلم جو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے
لیونارڈو ڈی کیپریو نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا / اسکرین شاٹ

ان کرداروں کے لیے اکثر یہ تعین کرنا مشکل ہوجاتا تھا کہ وہ خواب میں ہیں یا حقیقی دنیا میں، جس کو جاننے کے لیے ہر ایک کی اپنی ایک خاص چیز ہوتی ہے۔

ڈوم کوب اس مقصد کے لیے ایک لٹو کا سہارا لیتا تھا جو خواب کی دنیا میں ہونے پر مسلسل گھومتا رہتا ہے جبکہ حقیقی دنیا میں کچھ دیر بعد تھم جاتا ہے۔

اگر آپ نے اسے اب تک نہیں دیکھا تو مزید کہانی فلم کا پورا لطف ختم کر دے گی۔

فلم سے جڑے چند دلچسپ حقائق

وہ فلم جو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے
فلم خوابوں کی نگری کے گرد گھومتی ہے / اسکرین شاٹ

اس فلم کے تمام کردار فلم انڈسٹری کے اہم شعبوں کی نمائندگی کرتے تھے۔

یعنی آرتھر (دی پوائنٹ مین) پروڈیوسر، اریانڈی (دی آرکیٹیکٹ) پروڈکشن ڈیزائنر، ایمیس (دی فورجر) اداکار، رابرٹ فشر (دی مارک) ناظرین کی نمائندگی کرتے تھے۔

جہاں تک ڈوم کوب کی بات ہے تو وہ ڈائریکٹر تھا۔

فلم تو خوابوں کی نگری کے گرد گھومتی تھی مگر اسے تحریر اور ڈائریکٹ کرنے والے کرسٹوفر نولان نے خوابوں پر کوئی تحقیق نہیں کی بلکہ اپنے تجربات اور احساسات کو بنیاد بنایا۔

فلم کے مرکزی خیال یعنی آئیڈیا ذہن میں بونے کے لیے خوابوں کی 3 تہوں کو فلمانے کی بنیادی وجہ ناظرین کے لیے کہانی کو کسی حد تک سادہ بنانا تھا۔

وہ فلم جو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے
فلم کا اختتام اب بھی لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے / اسکرین شاٹ

فلم کا اختتام بھی اب تک لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے اور 16 سال بعد بھی اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

اس بارے میں کرسٹوفر نولان نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ وہ اس بارے میں بات چیت کرنے کی خواہش نہیں رکھتے ‘میں نے جان بوجھ کر اختتام اس انداز سے کیا اور مجھے یہ ہمیشہ درست اختتام لگتا ہے’۔

یعنی فلم کے ڈائریکٹر نے کبھی فلم کے اختتام کے بارے میں وضاحت نہیں کی بلکہ یہ معاملہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P