مودی سرکار کی سفارتی نااہلی سے برآمدی شعبہ تباہ ،لاکھوں ملازمین کا مستقبل تاریک ہو گیا۔
بھارتی سینئر صحافی اور کالم نگار دنیش کے وُہرا کا مودی کے کھوکھلے دعوؤں کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج سے امریکا کے تمام آرڈرز منسوخ ہو گئے ہیں کوئی شپمنٹ نہیں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امریکا کیساتھ 60ارب ڈالر کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے، 10کروڑ لوگوں کے لیے سیاہ دیوالی آ گئی ہے، اب کہرام مچے گا، ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے کے ساڑھے 4کروڑ ملازمین کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔
دنیش کے وُہرا کا کہنا تھا کہ 20سے 22ہزار کروڑ کے جھینگا فارمنگ کے آرڈر کینسل ہو چکے ہیں، ہیروں کی 10ارب ڈالر کی برآمدات تھیں، اب کوئی آرڈر نہیں ہے، قالین، چمڑے، مشینری، گاڑیاں، کیمیکلز اور پرزہ جات کے سب آرڈرز منسوخ ہو گئے۔
بھارتی صحافی نے خوفناک انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں تمام نوکریاں ختم ہو جائیں گی ، لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے، ٹیرف نہیں ہٹتا تو ملک سے صرف بیروزگاری کی خبریں آئیں گی، حکومت سب جانتی ہے مگر کوئی بات نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلزجھوٹ کہتے ہیں صرف 0.3 یا 0.4 فیصد جی ڈی پی کم ہو گی اور ہم کھڑے رہیں گے ، ہم دیمک لگی دیوار کی طرح کھڑے ہیں جو پتہ نہیں کب دھڑام سے گر جائے، آپ جتنا مرضی کہہ لیں 50فیصد ٹیرف کے سامنے ہم کھڑے نہیں رہ سکتے۔
دنیش کے وُہرا نے کہا کہ چین ایک دیوار کی طرح سامنے کھڑا ہے اور اس کا سامان10گنا سستا ہے، ہمارا معیار اتنا خراب ہے کہ جاپان میں زیرو ٹیرف کے باوجود کوئی کچھ نہیں خریدتا ، لوگوں کیلئے سیاہ دور آنے والا ہے اور مودی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
بھارتی صحافی نے مزید کہا کہ مودی سرکار کا’وشو گرو‘ نعرہ مہنگائی، بے روزگاری اور بھوک میں دفن ہوگیا،50فیصد امریکی ٹیرف کے باعث مودی سرکار کا معاشی ماڈل مکمل طورپرتباہ ہوگیا ہے۔