اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر جلسوں میں وزیراعظم کو ’فارم 47 کا وزیراعظم‘ کہا جاتا ہے تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ صدر مملکت کس فارم کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں، ’کوئی پہلی بار ملک توڑ کر بھی وزیراعظم بنا تھا‘۔
اُنہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کے دو ’برخوردار‘ نظام کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، ان کے بقول، ایک رہنما نظام پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ دوسرے نے بھی کہا ہے کہ موجودہ نظام اب آگے نہیں چل سکتا۔
سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ اسی نظام کے ذریعے وہ ساڑھے تین برس میں تیس برس کا سیاسی سفر طے کر چکے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس نظام سے سیاسی فائدہ حاصل کیا گیا، اب اسی کو ناکام قرار دینا
