تحریر: قاسم علی
ہاکی کی دنیا میں بڑے بڑے عظیم سپوت پیدا ہوئے، ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، محنت اور شاندار کھیل سے اپنے ملکوں کا نام روشن کیا، لیکن پاکستان کے شہباز احمد سینئر کو جو مقام ہاکی کی تاریخ میں حاصل ہوا، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ وہ صرف پاکستان کے عظیم کھلاڑی نہیں بلکہ عالمی ہاکی کے ان چند منتخب ستاروں میں شامل ہیں جن کا نام ہاکی کی تاریخ ہمیشہ احترام سے لے گی۔ شہباز سینئر کو دنیا بھر میں “Maradona of Hockey” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لقب محض خوبصورت الفاظ نہیں بلکہ ان کے کھیل کا اعتراف تھا۔ جس طرح فٹ بال میں ڈیگو مئراڈونا اپنی غیر معمولی ڈربلنگ، رفتار اور مخالفین کو حیران کر دینے والی مہارت کے لیے مشہور تھے، اسی طرح ہاکی کے میدان میں شہباز سینئر گیند کو اسٹک کے ساتھ اس انداز میں لے کر دوڑتے کہ دفاعی کھلاڑی ان کی اگلی چال کا اندازہ ہی نہ لگا پاتے ۔ یکم ستمبر 1968ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے شہباز احمد نے ہاکی کے میدان میں قدم رکھا تو کسی کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ نوجوان آنے والے برسوں میں پاکستان ہاکی کی تاریخ کا ایک نا قابلِ فراموش باب بن جائے گا۔ 1986ء میں انہیں پاکستان کی قومی ٹیم میں جگہ ملی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کی برق رفتاری، گیند پر غیر معمولی کنٹرول، کراس فیلڈ پاسز، ڈربلنگ اور مخالف دفاع کو چیرنے کی صلاحیت نے انہیں بہت جلد عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔
شہباز سینئر کے کیریئر کا سب سے شاندار دور 1990ء سے 1994ء تک رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا نے پاکستانی ہاکی کے اس عظیم فنکار کو اپنے عروج پر دیکھا۔ 1990ء کے لاہور ورلڈ کپ میں شہباز سینئر کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ چار برس بعد 1994ء میں سڈنی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی یہی اعزاز دوبارہ ان کے نام ہوا۔ عالمی ہاکی کی تاریخ میں مسلسل دو ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ بننے کا اعزاز آج بھی شہباز سینئر کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ صرف انفرادی اعزاز نہیں تھا بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ شہباز سینئر اپنے عہد کے کس قدر غیر معمولی کھلاڑی تھے۔ دنیا بھر کے دفاعی کھلاڑی ان کی رفتار اور گیند پر گرفت سے واقف تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں روکنا آسان نہیں تھا۔ وہ میدان میں صرف گیند لے کر دوڑنے والے کھلاڑی نہیں تھے بلکہ کھیل کو پڑھنے، ساتھی کھلاڑیوں کو موقع فراہم کرنے اور لمحوں میں فیصلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ 1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستان نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اگرچہ پاکستان اس ایونٹ میں طلائی تمغہ حاصل نہ کر سکا، لیکن شہباز سینئر کی کارکردگی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں کیوں شمار ہوتے ہیں۔ اس دور کی پاکستانی ٹیم کو انتہائی مضبوط تصور کیا جاتا تھا اور شہباز سینئر اس ٹیم کے اہم ترین ستونوں میں شامل تھے۔
پھر 1994ء، پاکستان ہاکی کا ایک تاریخی سال۔ سڈنی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شہباز سینئر نے پاکستان کی قیادت کی۔ گرین شرٹس نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ اپنے نام کیا اور شہباز سینئر نے بطور کپتان وہ اعزاز حاصل کیا جس کا خواب ہر کھلاڑی دیکھتا ہے۔ 1994ء کا یہ عالمی کپ پاکستان کا چوتھا ورلڈ کپ ٹائٹل تھا اور بدقسمتی سے آج تک قومی ٹیم اس کامیابی کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکی۔ اسی سال لاہور میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں بھی پاکستان نے کامیابی حاصل کی ۔ یوں 1994ء شہباز سینئر کے کیریئر کا ایسا سنہری باب بن گیا جس میں انہوں نے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اپنی عظمت ثابت کی ۔ شہباز سینئر کی سب سے بڑی خوبی ان کی رفتار تھی۔ وہ میدان میں ایسے دوڑتے جیسے ان کے قدم زمین کو چھو ہی نہیں رہے ہوں۔ ان کی ڈربلنگ دیکھنے والے شائقین آج بھی ان کے کھیل کو یاد کرتے ہیں۔ وہ گیند کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہوئے مخالفین کے درمیان سے اس طرح نکل جاتے جیسے راستہ پہلے ہی ان کے لیے بنایا گیا ہو۔ ان کے کھیل کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ صرف ذاتی شہرت کے لیے نہیں کھیلتے تھے ۔ ایک بہترین فارورڈ کی حیثیت سے وہ گول کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو گول کے مواقع پیدا کرنے میں بھی ماہر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی موجودگی پوری ٹیم کے کھیل پر اثر انداز ہوتی تھی۔
شہباز سینئر کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے کھیل کو صرف پاکستانی شائقین نے نہیں بلکہ دنیا بھر کے ہاکی ماہرین اور مخالف ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بھی تسلیم کیا۔ روایتی حریف بھارت کے عظیم کھلاڑی بھی ان کی رفتار، بال کنٹرول اور کھیل کی سمجھ کے معترف رہے۔ یہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اس کے مخالفین بھی اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں ۔ پاکستانی ہاکی کے سنہری دور کی بات ہو اور شہباز سینئر کا ذکر نہ آئے ، یہ ممکن ہی نہیں۔ ان کے دور میں پاکستان عالمی ہاکی کی بڑی طاقت تھا۔ ایشین گیمز، ایشیا کپ، ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی اور اولمپکس جیسے بڑے مقابلوں میں پاکستان کا نام عزت اور خوف دونوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ شہباز سینئر اس سنہری دور کی سب سے روشن علامتوں میں سے ایک تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1992ء میں صدارتی ایوارڈ اور پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا، جبکہ انہیں بلالِ پاکستان سے بھی سرفراز کیا گیا۔ یہ اعزازات اس بات کا اعتراف تھے کہ شہباز سینئر نے صرف کھیل کے میدان میں کامیابیاں حاصل نہیں کیں بلکہ پوری قوم کو فخر کے مواقع فراہم کیے۔
1996ء کے اٹلانٹا اولمپکس کے بعد ان کے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام قریب آگیا۔ بعد ازاں انہوں نے نیدرلینڈز اور جرمنی میں کلب ہاکی بھی کھیلی۔ لیکن ایک عظیم کھلاڑی کا سفر کھیل کے میدان سے رخصت ہونے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا ۔ شہباز سینئر کا نام آج بھی نوجوان ہاکی کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال، ایک تحریک اور ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان ہاکی آج جس مشکل دور سے گزر رہی ہے، ایسے وقت میں جب ہم ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو شہباز سینئر جیسے کھلاڑی امید دلاتے ہیں کہ پاکستان میں وہ ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے جو دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہے، ضرورت صرف اسے تلاش کرنے، سنوارنے اور مناسب مواقع فراہم کرنے کی ہے۔
شہباز سینئر صرف ایک کھلاڑی کا نام نہیں، پاکستانی ہاکی کے ایک پورے عہد کا نام ہے۔ وہ عہد جس میں گرین شرٹس دنیا کے بڑے بڑے حریفوں کے سامنے سینہ تان کر میدان میں اترتی تھیں، جس میں پاکستانی اسٹرائیکر کی رفتار مخالف دفاع کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی تھی اور جس میں دنیا پاکستان کے ہاکی اسٹک کے جادو کو سلام کرتی تھی ۔ آج بھی جب ہاکی کے عظیم کھلاڑیوں کا ذکر ہوتا ہے تو شہباز سینئر کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کھیل سے یہ ثابت کیا کہ عظمت صرف ٹرافیاں جیتنے کا نام نہیں بلکہ ایسا نقش چھوڑنے کا نام ہے جسے وقت بھی مٹا نہ سکے ۔ ہاکی کی دنیا میں بڑے بڑے عظیم سپوت پیدا ہوئے ، لیکن شہباز سینئر وہ نام ہیں جنہیں پاکستان نے پیدا کیا اور دنیا نے “ماراڈونا آف ہاکی” کا خطاب دیا۔ ان کی کہانی پاکستانی ہاکی کے سنہری ماضی کی کہانی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام بھی کہ اگر صلاحیت، محنت، جذبہ اور مواقع ایک جگہ جمع ہو جائیں تو پاکستان ایک بار پھر دنیا کے ہاکی میدانوں پر حکمرانی کر سکتا ہے۔ شہباز سینئر ایک کھلاڑی نہیں، ایک تاریخ ہیں۔ ایک یاد نہیں، ایک پورا عہد ہیں۔ اور پاکستان ہاکی کے ماتھے کا وہ ستارہ ہیں جس کی روشنی بھی مدہم ن
ہیں ہوگی۔