سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے کچھ غیر آئینی کیا ہے تو بالکل اڑا دیں گے، الیکشن کمیشن حقیر ادارہ نہیں نہ ہی سپریم کورٹ کے ماتحت ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔
دوران سماعت سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن کے وکلا نے دلائل دیئے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے عدالت کو بتایا کہ میں 4 قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھوں گا، پارٹی سرٹیفکیٹس جمع کرانے کے وقت پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا، الیکشن میں سرٹیفکیٹ گوہر علی خان کے دستخط سے جمع کرائے گئے، پی ٹی آئی نے اس وقت انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کرائے تھے، فارم 66 جمع کراتے وقت پی ٹی آئی کا کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل الیکشن کمیشن سکندر بشیر سے استفسار کیا کہ بتائیں غلطی کہاں اور کس نے کی؟
وکیل نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی میں بلینک کا مطلب آزاد امیدوار ہے، پی ٹی آئی نے فارم 66 بائیس دسمبر اور پارٹی سے وابستگی سرٹیفکیٹ 13 جنوری کو جاری کئے، پی ٹی آئی کو پارٹی سے وابستگی سرٹیفکیٹ تو کاغذات نامزدگی کے ساتھ لگانا چاہیے تھے۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بتا دیں پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی میں لکھا ہے کہ سرٹیفکیٹ منسلک ہیں، وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 23 دسمبر کو فیصلہ کیا جو پہلے آیا، اس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا۔
جسٹس منیب اختر نے دریافت کیا کہ آپ کہہ رہے کہ سرٹیفکیٹ غلط ہیں کیونکہ تب تک چیئرمین تحریک انصاف کا انتخاب نہیں ہوا تھا؟
وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ سرٹیفکیٹ جمع کراتے وقت جب چیئرمین پی ٹی آئی منتخب نہیں ہوئےتو کاغذات نامزدگی درست نہیں، کاغذات نامزدگی میں حامد رضا نےسنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر کی، حامد رضا کو بطور چیئرمین سنی اتحاد کونسل اپنے آپ کو ٹکٹ جاری کرنا چاہیے تھا۔
حامد رضا نے کاغذاتِ نامزدگی میں خود کو سنی اتحاد کا امیدوار کہا: وکیل
الیکشن کمیشن کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ حامد رضا نے 22 دسمبر کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور خود کو سنی اتحاد کونسل کا امیدوار کہا، حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں بریکٹ میں لکھا کہ اتحاد تحریک انصاف سے ہے، حامد رضا نے پارٹی سے وابستگی 13 جنوری کو جمع کرائی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یعنی الیکشن کمیشن کی تاریخ سے قبل پارٹی سے ڈیکلریشن دینی چاہیے، نشان بعد کی بات ہے، وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ حامد رضا کا ہر دستاویز ان کے پچھلے دستاویز سے مختلف ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا حامد رضا کو سنی اتحاد کونسل کا سرٹیفکیٹ دینا چاہیے تھا یا آزادامیدوار کا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ حامد رضا کو سنی اتحاد کونسل کا سرٹیفکیٹ جمع کرانا چاہیے تھا۔
جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ ڈیکلریشن میں تو حامد رضا نے خود کو تحریک انصاف کا ظاہر کیا نہ کہ آزاد امیدوار۔
وکیل نے مزید بتایا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 22 دسمبر کو آیا، 10 جنوری کو پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا اور 13 جنوری کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا، 8 فروری کو تحریک انصاف نے انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بتایا، اگر 7 فروری کو بھی تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کا بتا دیتے تو کچھ ہو سکتا تھا۔
اس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسا تحریک انصاف کرتی تو الیکشن کمیشن کا اپنا شیڈول متاثر ہو جاتا۔
پی ٹی آئی ایک سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرا سکی: چیف جسٹس
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ تو کئی سال قبل سے آ رہا تھا، تحریک انصاف بار بار انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے وقت مانگ رہی تھی، سپریم کورٹ پر مت ڈالیں، الیکشن کمیشن پہلے دیکھ سکتا تھا، فٹبال کی طرح ایکسٹرا ٹائم کو دیکھ رہے، اصل گیم 90 منٹ کی ہوتی ہے۔
اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سوال تھا انتخابات جائز ہوئے یا نہیں، 22 دسمبر کو جب نشان لے لیا تو مطلب انتخابات کیلئے پارٹی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تسلیم شدہ بات ہے کہ تحریک انصاف سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرا سکی، بطور وزیراعظم درخواست دی کہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے سال دے دو۔
بعد ازاں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امیدوار علی محمد خان نے سرٹیفکیٹ نہ ڈیکلریشن میں کچھ لکھا ہوا، ایسے بے شمار ہیں جو کاغذات نامزدگی میں بلینک ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ میری اردو کچھ کمزور ہے، صاحبزادہ کو شہزادہ کہہ دیتاہوں۔
وکیل الیکشن کمیشن کو کنول شوذب کا صحیح نام لینے میں دشواری
دوران سماعت وکیل سکندر بشیر کو پی ٹی آئی رہنما کنول شوذب کا صحیح نام لینے میں دشواری پیش آئی، وکیل نے بتایا کہ کنول شوذب کی درخواست پر سماعت نہیں ہونی چاہیے، وہ فیصلے سے متاثر نہیں ہوئیں، کنول شوذب تحریک انصاف میں ہیں، خواتین ورکرز ونگ کی سربراہ ہیں۔
وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ 4 لوگ ممبر قومی اسمبلی بطور آزاد امیدوار منتخب ہوئے لیکن سنی اتحاد کونسل سے ضم نہیں ہوئے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 6 امیدواروں نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ دیا لیکن وہ آزاد امیدوار کیسے قرار پائے؟
جسٹس منیب اختر نے دریافت کیا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق کتنے امیدواروں کا سرٹیفکیٹ اور ڈیکلریشن منظور ہوا؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سب آزاد امیدوار ہی رہے۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کے پاس اختیار ہے کہ تین روز میں کسی سے منسلک ہو جائیں، سب معاملہ حل ہوجائے گا۔
گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئیں: جسٹس عائشہ ملک
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ باپ پارٹی کو نشستیں دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا، باپ پارٹی کو نشستیں دینے کے معاملے پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تھی۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن ایک معاملے پر دو مختلف موقف کیسے لے سکتا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں تو انتخابات میں سیٹیں جیتی تھیں؟ کوئی ایسا قانون ہے کہ ایک صوبے میں سیٹیں جیتی ہوں تو دوسرے صوبے میں نہیں مل سکتیں؟
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہر انتخابات الگ ہوتے ہیں، اگر کہا جائے کہ 8 فروری کو 5 انتخابات ہوئے تو کیا درست ہے؟ وفاق اور صوبائی انتخابات الگ الگ ہوتے ہیں۔
اسی کے ساتھ الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ کیا بیرسٹر گوہرعلی خان موجود ہیں؟ ان کے سوال پر گوہر علی خان روسٹرم پر آگئے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے دریافت کیا کہ آپ سے پہلی سماعت پر پوچھا کیا پی ٹی آئی کے ڈیکلریشن، سرٹیفکیٹ جمع کرائے تو آپ نے ہاں کہا، لیکن الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق چند کاغذات نامزدگی میں جمع ہیں چند میں نہیں، کون سا بیان آپ کا درست ہے؟
اس پر گوہر علی خان نے جواب دیا کہ ہر امیدوار دو، دو فارم جمع کرا سکتا ہے، میں نے آزاد امیدوار اور تحریک انصاف کے جمع کرائے، الیکشن کمیشن ایک فارم لایا، تحریک انصاف کے فارم بھی منگوائیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انتخابات تو ایک پر لڑنا ہے، دو کیسے لکھ لئے آپ نے؟