سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تنقید کرنی ہے تو سامنے آ کر کریں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کر لیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ کے روبرو پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ کیا آپ نے پریس کانفرنس سنی؟ توہین عدالت ہوئی یا نہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مجھے جو ویڈیو ملی ہے اس کے متعلقہ حصے میں آواز نہیں تھی، کچھ حصہ خبروں میں سنا ہے۔
اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ پریس کانفرنس توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے؟ کوئی مقدمہ اگر عدالت میں زیر التوا ہو تو اس پر رائے دی جا سکتی ہے؟ میرے خلاف اس سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے لیکن نظرانداز کیا، میرے نظر انداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ ہم بھی تقریر کر لیں، لیکن کیا آپ اداروں کی توقیر کم کرنا شروع کر دیں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ وکلا، ججز اور صحافیوں سب میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں، برا کیا ہے تو نام لے کر مجھے کہیں ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، ہوسکتا ہے میں نے بھی اس ادارے میں 500 نقائص دیکھے ہوں، کیا ایسی باتوں سے آپ عدلیہ کا وقار کم کرنا چاہتے ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے عوام کے ہوتے ہیں، اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں، اداروں میں کوتاہیاں ہوسکتی ہیں، میں کسی اور کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا، اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو بتائیں، تنقید کریں، ہم ہر روز اچھا کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر عمل کر رہے ہیں۔
میں نے اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ ادارے کیلئے حلف لیا: چیف جسٹس
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جس کے پاس دلائل ہوں گے وہ ہم ججز کو بھی چپ کرا دے گا، میں نے اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ ادارے کیلئے حلف لیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا چیخ و پکار کر کے اپ ادارے کی خدمت کر رہے ہیں؟ میں مارشل لاء کی توثیق کرنے والوں کا کبھی دفاع نہیں کروں گا، اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو اس کی سزا دیگر ججز کو نہیں دی جا سکتی، بندوق اٹھانے والا سب سے کمزور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، دوسرے درجے کا کمزور گالی دینے والا ہوتا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ایک کمشنر نے مجھ پر الزام لگایا، بھئی بتاو تو صحیح چیف جسٹس کیسے دھاندلی کروا سکتا ہے؟ سارے میڈیا نے اسے چلا دیا، مہذب معاشروں میں کوئی ایسی بات نہیں کرتا اس لئے وہاں توہین عدالت کے نوٹس نہیں ہوتے، چیخ و پکار اور ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، تعمیری تنقید ضرور کریں لیکن تنقید کی ایک حد ہونی چاہیے۔