وڈھ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیرا علی بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہاہے کہ میں نے گزشتہ پانچ برسوں میں بلوچستان کے عوام کے حقوق لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے تاہم قومی اسمبلی میں میری موجودگی سے کچھ لوگوں کی نیندیںضرور حرام ہوئی ہے ان خیالات کا اظہا انہوں نے وڈھ بندلو ہوٹل مہندر کے مقام پر انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ جب میں پہلی مرتبہ وڈھ سے منتخب ہوا آپ لوگوں نے ووٹ دیا مجھے کامیاب کیا 2013میں بھی آپ لوگوں نے ہمیں ووٹ دیکر کامیاب کیا 2002جنرل مشرف کے دور میں بھی آپ لوگوں نے ہمیں ووٹ دیکر کامیاب کیا میں کبھی بھی نہیں کہتا کہ آپ مجھے ووٹ دیدیں 2018میں اپنے ووٹ کے ذریعے مجھے جو ذمہ داری دی آیا میں نے آپ کے اعتما د پر قومی اسمبلی میں آپ کے حقوق کی بات کی یا نہیں اس کا جواب آپ بہتر طور پر دے سکتے ہیں میں نے کوشش کی ہے کہ میں آپ لوگوں کے امیدوں کے مطابق آپ کے حقوق کی بات ایوانوں میں کروں بلوچستان کے مسئلہ پر میں نے بھر پور آواز اٹھائی میں نے ہر ظلم زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی ہمارے علاقوں میں نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا چوروں کی راج رہی بارڈر کے حدود میں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ان کیلئے میں نے بھر پور طور پر آواز اٹھائی گزشتہ پانچ برسوں میں اگر میں آپ کے توقعات پر پورا ہوں میری پارلیمنٹ میں موجودگی سے کچھ لوگوں کی نیندیں ضرور حرام ہوئی ہے میرے خلاف 2005کا ایک کیس نکالا ہے جس میں کہا گیا کہ مشرف دور میں میں نے حب میں پولیس والے کو ایک دھمکی دی ہے اور اسے قتل کیا ہے میں سرکار کے ان کیسوں سے گھبرانے والا نہیں کچھ لوگ ڈیتھ سکواڈ کے لوگوں کے جوتے سیدھا کرتے ہیں انہیں صبح شام سلام کرتے ہیں میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کے وہ غیرت کا مظاہر ہ کریں ان کے ہاتھ کتنے بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہیں اگر انکا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ان سے دعا سلام تو ختم کرسکتے ہیں وڈھ میں کتنے لوگوں کو ہراساں کیا گیا ہے نہ تاجر محفوظ ہیں اور نہ ہی عام شہری وڈھ میں ڈیتھ سکواڈ کے ہاتھوں محفوظ ہے ۔
You might also like