یمن کے حوثیوں کی جانب سے چین سے درآمد کردہ پرزوں کی مدد سے اپنے جدید اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق تنازعات والے خطوں میں ہتھیاروں کی سپلائی چین پر کام کرنے والے گروپ ‘کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ’ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے ایک چینی سپلائر سے ایران کے طاقتور ترین ہتھیاروں میں سے ایک ‘خیبر شکن’ نامی گائیڈڈ میزائل کا مقامی ورژن بنانے کے لیے درکار پرزے منگوائے ہیں۔
اس حوثی میزائل کی رینج تقریباً 1200 میل ہو گی جس کا مطلب ہے کہ پورا سعودی عرب اور اسرائیل اس کی زد میں آ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ‘خیبر شکن’ میزائل فضائی دفاعی نظام کو باآسانی چکمہ دے کر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کی وجہ سے زیادہ مہلک سمجھا جاتا ہے۔
یہ رپورٹ گزشتہ سال یمنی حکام کی جانب سے روکی گئی دو شپمنٹس کی معلومات پر مبنی ہے جن میں دیگر سامان کے ساتھ میزائل کے آلات بھی چھپائے گئے تھے۔
اخبار کے مطابق کنفلکٹ آرمامنٹ کے سینیئر تجزیہ کار فیبین ہنز کا کہنا ہے کہ ’جب اس قسم کی درآمدات ہوتی ہیں، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ یا تو میزائل تیار کر رہے ہیں یا کم از کم اس کی کوشش کر رہے ہیں‘۔
فیبین ہنز کے مطابق حوثیوں کی ہتھیار بنانے والی تنصیبات اتنی پوشیدہ ہیں کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ میزائل کی پیداوار کس مرحلے تک پہنچی ہے۔
واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حملوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ ان حملوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کی مسلسل کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی منگل کے روز شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں کے رویے کو ’انتہائی برا‘ قرار دیا تھا۔