ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی پلیئر آکشن میں یو اے ای کے مقامی کھلاڑیوں پر فرنچائزز کے بڑھتے اعتماد نے اماراتی کرکٹ کے مستقبل کیلئے نیا جوش پیدا کر دیا ہے، ایم آئی ایمریٹس نے محمد وسیم کو رائٹ ٹو میچ آپشن کے ذریعے 2 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر میں برقرار رکھا، جو ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں کسی یو اے ای کھلاڑی کے لیے سب سے بڑی رقم ہے۔
محمد وسیم کی ریکارڈ سائننگ کو یو اے ای کرکٹ کے لیے ایک فخر کا لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، ایم آئی ایمریٹس کی جانب سے اس اعتماد پر وہ بے حد شکر گزار ہیں، یہ ان کے سفر، محنت اور یو اے ای کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اعتماد کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے، اور وہ ٹیم کی کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
آکشن میں صرف محمد وسیم ہی نہیں بلکہ دیگر یو اے ای کھلاڑی بھی نمایاں رہے، ابوظہبی نائٹ رائیڈرز نے علیشان شرفو کو ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر اور محمد روحید کو 95 ہزار ڈالر میں حاصل کیا، جبکہ دبئی کیپٹلز نے آیان خان کو 95 ہزار ڈالر میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا، ڈیزرٹ وائپرز نے خزیمہ بن تنویر کو 75 ہزار ڈالر اور وریتیا اروند کو 70 ہزار ڈالر میں سائن کیا۔
محمد وسیم کا آئی ایل ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ بھی شاندار ہے، وہ ایم آئی ایمریٹس کے لیے 46 میچز میں 1,241 رنز بنا چکے ہیں اور لیگ کے تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں، ان کے 68 چھکے بھی لیگ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ گزشتہ سیزن میں وہ بہترین یو اے ای کھلاڑی کے طور پر بلیو بیلٹ بھی جیت چکے ہیں۔
علیشان شرفو، جو مسلسل چوتھے سیزن میں ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کریں گے، نے کہا کہ یو اے ای کھلاڑیوں پر اس سطح کی سرمایہ کاری نوجوان کرکٹرز کے لیے بڑا حوصلہ ہے، ان کے مطابق ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی نے مقامی کھلاڑیوں کو عالمی اسٹارز کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔
محمد روحید نے کہا کہ ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز کا اعتماد ان کے لیے فخر کی بات ہے۔ ان کے مطابق یو اے ای میں فاسٹ بولنگ کا کافی ٹیلنٹ موجود ہے، اور آئی ایل ٹی ٹوئنٹی جیسے پلیٹ فارم سے مقامی بولرز کو اپنی صلاحیت دکھانے کا بڑا موقع مل رہا ہے۔
آیان خان، جو لیگ میں یو اے ای بولرز میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ہیں، نے کہا کہ مقامی کھلاڑیوں میں بڑھتی سرمایہ کاری ملک میں کرکٹ کے مستقبل کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دبئی کیپٹلز کے ساتھ سیزن 5 میں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ڈیزرٹ وائپرز کے وریتیا اروند نے کہا کہ گزشتہ سیزن میں ٹائٹل جیتنا ان کے لیے خاص تجربہ تھا، اور وہ ایک بار پھر کامیاب مہم کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں، ان کے مطابق جب نوجوان کھلاڑی مقامی کرکٹرز کو اس سطح پر کامیاب ہوتے دیکھتے ہیں تو انہیں بھی یقین ملتا ہے کہ یو اے ای میں کرکٹ کو پیشہ ورانہ کیریئر بنایا جا سکتا ہے۔
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں یو اے ای کھلاڑیوں کی بڑھتی مانگ امارات کرکٹ بورڈ کے طویل المدتی ویژن سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد مقامی ٹیلنٹ کو مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرنا، کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور یو اے ای کرکٹ کو عالمی سطح پر مزید مستحکم بنانا ہے۔
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کا پانچواں ایڈیشن ہفتہ 21 نومبر سے اتوار 20 دسمبر 2026ء تک کھیلا جائے گا، جس میں مقامی اور عالمی اسٹارز ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کے کرکٹ میدانوں میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔