یمن کے حوثی جنگجوؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے سعودی عرب کی حمایت میں یمن کی جنگ میں فوجی مداخلت کی یا آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تو خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
حوثی فوجی مشیر عابد محمد الثور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ اگر امریکا اپنے بحری بیڑے کے ذریعے یمن میں فوجی مداخلت کرتا ہے یا آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حوثیوں کے لیے ’’سرخ لکیر‘‘ ہوگی اور وہ امریکا کے خلاف لڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن سعودی عرب کی حمایت میں فضائی حملے یا فضائی معاونت فراہم کرتا ہے تو حوثی خطے میں موجود تمام امریکی مفادات کو اہداف تصور کریں گے۔
یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف امریکی مدد طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف ممکنہ فضائی کارروائی پر غور کیا، تاہم فی الحال براہِ راست حملے سے گریز کیا ہے۔
حوثی فوجی مشیر نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے سعودی عرب کی حمایت میں فوجی کارروائی کی تو حوثی امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے ساتھ آبنائے باب المندب کو امریکی بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے پر بھی غور کریں گے۔
علاقائی صورتحال میں آبنائے باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی میں حالیہ شدت کے بعد خطے میں بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی حالیہ رابطے میں آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
