وزیر دفاع نے کہاکہ اگر بیوروکریسی آج ایک ناقابل گرفت طبقہ بن چکی ہے اور کوئی اسے جوابدہ کرنے والا نہیں تو اس کے ذمہ دار دراصل سیاست دان اور ان کی کمزوریاں ہیں، جبکہ بیوروکریٹس صرف اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے کردار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 1970 کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی اختیار کی گئی اور بیوروکریسی نے ملک کے تمام کاروباری اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا، اس کے بعد قومی تحویل میں لیے گئے اثاثے تباہ ہوگئے، لیکن کسی حکومت نے ان طاقتور اور ناقابل احتساب عناصر سے سوال نہیں کیا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اگر قومیانے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ سانحہ سقوط ڈھاکا سے بھی بڑا ثابت ہوگا، اس نقصان کو شمار کرنے کے لیے حساب میں موجود صفر بھی شاید کم پڑ جائیں، موجودہ حکومت نجکاری کا پروگرام آگے بڑھا رہی ہے اور وہ اس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف پہلے حکمران تھے جنہوں نے ملک میں قومیانے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو واپس پلٹنے کی کامیاب کوشش کی، جبکہ شہید بے نظیر بھٹو نے بھی اس عمل کو مزید آگے بڑھایا، لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا، مستقل حکمران بیوروکریسی نے ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نجکاری پر توجہ دی جا رہی ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ پاکستان کی بیوروکریسی سے وابستہ امیر افراد پرتگال، کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور پاکستان میں موجود ہیں اور یہ لوگ سیاست دانوں کی دوراندیشی سے محرومی کا براہ راست فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
وزیر دفاع نے ایک سابق گورنر جنرل سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ گورنر جنرل کو بعد میں فالج کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد جب سیاستدان ان سے ملاقات کے لیے جاتے تو وہ انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے، تاہم سیاست دان ان کی بات سمجھ نہیں پاتے تھے۔
خواجہ آصف کے مطابق گورنر جنرل کے ساتھ موجود ان کی انگریز سیکریٹری ان الفاظ کا ترجمہ کرکے سیاست دانوں کو بتاتی تھیں کہ گورنر جنرل دراصل کیا کہہ رہے ہیں۔

