اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان کی صورت حال پر سہ ماہی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کی جس میں افغانستان میں سکیورٹی بحران سنگین ہونے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق عالمی دہشت گرد تنظیمیں تاحال افغان سرزمین پر اپنی پوری عسکری اورجنگی صلاحیتوں کے ساتھ کھلے عام سرگرم ہیں، پاکستان نے21فروری کوننگرہاراورپکتیکامیں فضائی حملےکرکےفتنہ الخوارج اورداعش کےٹھکانوں کوتباہ کردیا۔
طالبان رجیم پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنےمیں ناکام رہا، پاکستان کو مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا، پاکستان نے اسلام آباد مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کا جواب دیتے ہوئے القاعدہ کا اہم کمانڈر جہنم واصل کیا۔
پاکستان نے26فروری کوافغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جس میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش سے افغان تجارت میں 90 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی اور ٹرانسپورٹ لاگت میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 29لاکھ افغان شہریوں کی واپسی کے بعد طالبان رجیم لیبر مارکیٹ، رہائش اوربنیادی سہولیات فراہم کرنےمیں ناکام ہو گیا، افغانستان میں سکیورٹی بحران سنگین ہو گیا، گزشتہ3ماہ میں مختلف واقعات 57 فیصد اضافےکے ساتھ 3ہزار687 تک پہنچ گئے۔
افغانستان میں طالبان رجیم مخالف متعدد مسلح گروپس سرگرم ہیں جنہوں نےحالیہ18کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی، عام معافی کے دعوؤں کے برعکس سابق سرکاری ملازمین اور سکیورٹی اہلکار بدستور افغان طالبان کے نشانے پر ہیں، گزشتہ3ماہ میں سابق سکیورٹی اہلکاروں کے5ماورائےعدالت قتل، 20غیرقانونی گرفتاریاں اورتشدد کے8 سےزائد واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ افغانستان میں میڈیا کا گلا گھونٹنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، طالبان رجیم کی جانب سے صحافتی اداروں پرسخت پابندیاں برقرارہیں۔
طالبان رجیم کی نااہلی کےباعث افغانستان میں کیمیائی منشیات بالخصوص آئس کی تیاری اور سمگلنگ بدستور جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی سرپرستی کے باعث القاعدہ اور داعش جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطےکیلئے خطرناک ہیں، قابض افغان طالبان رجیم کا مقصد عوامی فلاح و بہبود کے بجائے صرف عسکری عزائم کو آگے بڑھانا ہے۔