ان کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر عبور کرنے کے بعد اداکاراؤں کے لیے اچھے کرداروں کے مواقع محدود ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اپنی آنے والی نیٹ فلکس فلم "گاندھاری” کی ریلیز سے قبل بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں تاپسی پنو نے انڈسٹری میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ میں ہندی فلم انڈسٹری میں اس وقت آئی جب میری عمر تقریباً 25 سال تھی، پھر تین سے چار سال اچھے کردار حاصل کرنے کی جدوجہد میں گزر جاتے ہیں، جب تک آپ اپنی شناخت بناتے ہیں، آپ 30 سال کی عمر عبور کر چکے ہوتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ آپ رومانوی فلموں کے لیے زیادہ جوان نہیں رہیں۔
تاپسی کے مطابق کئی ایسے کردار ہوتے ہیں جن میں کم عمر اداکارہ کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود فلم ساز نوجوان چہروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرد اداکاروں کے معاملے میں ایسا رویہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ سوچ اور تاثر کا ہے، خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوؤں کے باوجود انڈسٹری میں یہ رویہ اب بھی موجود ہے۔
تاپسی پنو نے جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہاں بھی انہیں اسی قسم کے تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ جب میں کسی سینئر اداکار کے مقابل کاسٹ ہوئی تو کئی کم عمر اداکار میرے ساتھ کام کرنے سے ہچکچانے لگے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی فلم انڈسٹری میں میرے ساتھ ایسا ہوا کہ جب میں کسی نسبتاً سینئر اداکار کے ساتھ نظر آئی تو نوجوان اداکار میرے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن اگر کوئی اداکارہ شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرے تو اس کے کیریئر کو فائدہ پہنچتا ہے، مرد اداکاروں کے لیے یہ سوچ نہیں پائی جاتی۔
تاپسی نے اس صورتحال کو بالی ووڈ اور جنوبی فلم انڈسٹری میں موجود دہرے معیار کی واضح مثال قرار دیا۔