پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبل فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت 1.3 ارب ڈالر موصول ہوگئے۔
ای ایف ایف قرض پروگرام کے تحت ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جبکہ کلائمیٹ فنانسنگ کے پروگرام کے تحت 20 کروڑ ڈالر مل گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دونوں قرض پروگرامز کی اگلی قسط مل گئی، موصولہ رقم 15 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل ہوگی۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے لیے فنڈز کی منظوری دی تھی، جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینےکے بعد قرض جاری کرنے کی سفارش کی تھی، موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر 3.3 ارب ڈالر جاری ہو چکے ہیں، پاکستان نے ستمبر 2024 میں 37 ماہ کے لیے ای ایف ایف پروگرام لیا تھا۔
آئی ایم ایف کے مطابق حکومت نے کئی اہم شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی، جن میں مالیاتی خسارے میں کمی کے ذریعے سرکاری مالیات کو مضبوط بنانا، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا، اور توانائی کے شعبے کی پائیداری بہتر بنانے کے لیے اصلاحات شامل ہیں۔