بالی ووڈ کے آنجہانی اداکار ونود کھنہ اور پر اسٹار امیتابھ بچن کے درمیان 70ء کے عشرے میں پیشہ ورانہ رقابت تھی، اسی وجہ سے ونود کھنہ، امیتابھ بچن سے حسد کرتے تھے۔
اس حوالے سے بھارتی ہندو مذہبی فلاسفر اور رجنیش موومنٹ کے بانی بھگوان شری رنجیش المعروف اوشو کے مطابق اس حسد کی وجہ ونود کھنہ کی اپنی پرانی حیثیت تھی جسے وہ یاد کیا کرتے تھے۔
واضح رہے کہ ونود اور امیتابھ نے 1977 کی بلاک بسٹر فلم امر اکبر انتھونی میں ایکساتھ کام کیا تھا۔
دوسری جانب اوشو کے ساتھی یہ سمجھتے تھے کہ ونود کھنہ اپنے خاندان کو یاد کرتے ہیں، تاہم اوشو کی اس حوالے سے رائے اس مختلف تھی۔
یاد رہے کہ اپنی مقبولیت کے دور عروج میں ونود کھنہ نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے سب کو حیران کر دیا، انہوں نے فلمی دنیا کی چکا چوند کو خیر باد کہا اور امریکہ میں اوشو کے گروپ میں شامل ہو گئے اور وہاں ان کے گھر میں بطور مالی کام کرنے لگے تھے۔
ان کے اس فیصلے سے جو خلا پیدا ہوا اسکو جلد ہی امیتابھ بچن نے اپنی یکے بعد دیگرے کامیاب فلموں سے پر کر دیا۔
اوشو کے مطابق یہ بات ونود کھنہ کو زیادہ راس نہیں آئی۔ اوشو نے ونود کھنہ کو مشورہ دیا کہ وہ بھارت واپس جائیں اور امیتابھ بچن کے خلاف الیکشن لڑیں۔
اس حوالے سے ایک پرانے انٹرویو میں اوشو کے بھائی سوامی شیلندر سرسوتی نے بتایا کہ ونود کھنہ اکثر اداس نظر آتے تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی بیوی اور دو کمسن بیٹوں کو یاد کرتے ہیں، لیکن اوشو اس بات سے متفق نہیں تھے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کو یاد نہیں کر رہے، اسے کہو کہ بھارت واپس جائے اور امیتابھ بچن کے خلاف الیکشن لڑے۔
بعدازاں ونود کھنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں بھارت واپس گئے۔ جہاں انہوں نے نئے عزم کے ساتھ فلمی کیریئر دوبارہ شروع کیا اور کئی کامیاب فلموں میں کام کرنے کے ساتھ سیاست میں بھی قدم رکھا۔ وہ واجپائی کی حکومت میں یونین منسٹر بنے۔
ونود کھنہ 27 اپریل 2017 کو مثانے کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے اور اپنے پیچھے ایک ایسی میراث چھوڑ گئے جو آج بھی فلمی شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔