اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا ہے اور اسٹیٹ بینک نے شرح سود ساڑھے 10 فیصد سے بڑھاکر ساڑھے 11 فیصد کردی ہے تاجروں اور صنعتکاروں نے شرح سود میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی صنعت اور برآمدات کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے اور اس سے ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔
صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت پہلے بہت بڑھ چکی ہے دوسری جانب اسٹیٹ بینک اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطی کی صورتحال کے باعث شرح سود میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہ ہے۔