مشرق وسطیٰ میں جنگ کا 21 واں روز ہے اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید منائی جا رہی ہے جبکہ ایران پر رات بھر امریکی اسرائیلی حملے جاری رہے، ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل کی بڑی ریفائنری کو نشانہ بنایا جس سے بجلی بند ہو گئی جبکہ امریکا کا غرور ایف 35 بھی نشانہ بنا، امریکی اسرائیلی جارحیت سے مزید کئی شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔
ایران میں آج تیسواں روزہ رکھا گیا ہے اور کل عید الفطر پر منائی جائے گی جبکہ اس خوشیوں بھرے تہوار پر بھی امریکی اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔
ایران میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3,186 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 210 بچوں سمیت 1,394 عام شہری شامل ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 1,153 فوجی جبکہ 639 اموات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔
لبنان میں بھی شہادتیں ایک ہزار کے قریب ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ادھر جارح اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہ دی، مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کے باہر نماز عید ادا کر لی۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی امریکے اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔
امریکا اور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے مشرقی تہران اور صوبہ کرمان میں دھماکے سنے گئے، امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے فورسز نے ایران میں میزائل پلانٹ پر بڑا حملہ کیا، کاراج میزائل فیکٹری کو نشانہ بنایا ۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوٹیج بھی جاری کردی۔
ایران کے تابڑ توڑ جوابی وار بھی جاری ہیں۔ پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر میزائل داغ دیے۔ تل ابیب اور یروشلم میں سائرن بج اٹھے۔ ایران نے دعوی کیا ہے کہ حملے میں اسرائیل کی سلامتی کے ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔