جنگ کا اٹھارہواں روز، ایران نے اسرائیل اور امریکا کے اہداف پر ‘خیبر شکن’ و ‘قدر’ میزائل داغے دیے، یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی شمولیت سے انکار کر دیا
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازعے نے اٹھارہواں روز میں قدم رکھ دیا ہے، پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل حملوں کی ایک نئی اور وسیع لہر شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایک منظم عسکری مہم کے تسلسل میں انجام دی گئی، جسے ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت حالیہ حملوں کو نہ صرف شدت بلکہ تعداد کے لحاظ سے بھی نمایاں قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکام اسے اب تک کی 57 ویں لہر قرار دے رہے ہیں۔
ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے میں مختلف نوعیت کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جنہیں ایک مذہبی و علامتی نسبت دیتے ہوئے ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے عنوان سے منسوب کیا گیا، یہ حملے مکمل منصوبہ بندی اور مخصوص اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے، ان میزائل حملوں کا ہدف مقبوضہ علاقوں میں موجود حساس اور اسٹریٹجک تنصیبات تھیں، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، میزائل دفاعی نظام اور کمیونیکیشن انفراسٹرکچر شامل ہیں، ان کارروائیوں میں جدید ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جن میں خیبر شکن، عماد اور قدر جیسے میزائل شامل ہیں، جو طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1400 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل حملے کو ناکام بنا دیا، تاہم ابوظبی کے علاقے بنی یاس میں میزائل کے ٹکڑے زمین پر گرنے والے ملبے کے باعث علاقے میں نقصان پہنچا اور ایک پاکستانی شہری جان کی بازی ہار گیا۔