روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے سالانہ پروگرام ’’سال کے نتائج‘‘ میں یوکرین جنگ، امن مذاکرات اور محاذِ جنگ کی تازہ صورتحال پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پورے محاذ پر اسٹریٹجک برتری مکمل طور پر روسی افواج کے ہاتھ میں ہے، جبکہ یوکرین کے اسٹریٹجک ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں، جو کیف حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
ماسکو کے تاریخی گوسٹینی دوور میں منعقد ہونے والے اس براہِ راست پروگرام میں صدر پیوٹن نے ملکی و غیر ملکی صحافیوں اور عوامی سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ روس امن کے ذریعے اس تنازع کا خاتمہ چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے متعدد مواقع پر مذاکرات کی پیشکش کی گئی، مگر یوکرینی قیادت نے سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔
صدر پیوٹن کے مطابق کورسک کے علاقوں سے دشمن کو نکالنے کے بعد پورے محاذ پر پہل روسی افواج کے ہاتھ میں آ چکی ہے، انہوں نے بتایا کہ روسی دستے مختلف سمتوں میں مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں اور یوکرینی افواج پسپا ہو رہی ہیں، صدر نے انکشاف کیا کہ سیورسک، کراسنی لِمان، کراسنوآرمئیسک، دیمتروف، وولچانسک اور کوپیانسک سمیت کئی اہم علاقوں میں روسی افواج کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر یوکرینی دستے محاصرے میں ہیں۔