بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ احتجاج کو لیڈ کریں گے، وہ جیل میں آزاد ہیں اور ہم لوگ جو باہر ہیں وہ قید ہیں، آپ لوگوں کو اپنے لیے نکلنا ہے، رول آف لا اور جمہوریت کے لیے نکلنا ہے اور 26 ویں ترمیم کے خلاف نکلنا ہے۔
یہ بات علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر اپنی بہنوں نورین اور عظمی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہی۔
علیمہ خان نے کہا کہ بہنوں کی عمران خان سے الحمدللہ ملاقات ہوگئی، بانی پی ٹی آئی خیریت سے ہیں، بانی کے ساتھ وہ کچھ ہورہا ہے جو کسی قیدی کے ساتھ نہیں ہوتا، یہ ظلم کی انتہا ہے، ان کا ٹی وی اخبار ایک ہفتے سے بند کیا ہوا ہے، بانی کے پاس پڑھنے لکھنے کے لیے کچھ نہیں، بانی سے مل کر خوشی ہوتی ہے وہ ٹھیک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی جیل میں بہترین کتاب لکھ سکتے لیکن ان کے پاس کچھ لکھنے کے لیے قلم کاغذ ہو تو لکھیں۔
قبل ازیں گورکھ پور ناکے پر گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ 10 محرم گزر گیا اب پارٹی لائحہ عمل دے گی، بانی نے تو لائحہ عمل دے دیا، بانی نے پلان بنایا ہوا ہے جب پچھلے ہفتے ہماری فیملی نے ملاقات کی تھی تو ہم نے پلان دے دیا تھا، پارٹی والے میڈیا کے کہنے پر توپلان نہیں بتاسکتے، پتا نہیں پشاور سے چلیں گے اور لاہور تک جائیں گے یہ تو پلان پارٹی بتائے گی، ہماری فیملی کو احتجاج کا پلان پتا ہے میڈیا کو اس وقت بتائیں گے جب وقت آئے گا بھروسہ رکھیں بہتر ہوگا۔
اسی طرح بشریٰ بی بی سے ان کی بھابھی مہرالنساء کو ملاقات کی اجازت مل گئی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان صفدر اور ظہیر عباس چودھری کو بھی ملاقات کی اجازت مل گئی۔
بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ، منورہ بلوچ داہگل ناکہ پہنچے انہیں پولیس نے روکا۔ سینیٹر فیصل جاوید، ایڈووکیٹ ظہیر عباس چوہدری کو بھی گورکھپور ناکہ پر روک لیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ، منورہ بلوچ داہگل ناکہ پہنچے انہیں پولیس نے روکا۔ سینیٹر فیصل جاوید، ایڈووکیٹ ظہیر عباس چوہدری کو بھی گورکھپور ناکہ پر روک لیا گیا۔
سلمان صفدر میڈیا ٹاک
دریں اثنا وکیل سلمان صفدر نے عمران خان سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم اندر جارہے ہیں یہ ملاقات اتنی ہی اہم ہے جتنی پہلے تھی۔