چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی اور پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہشمند ہے، جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، پانی بند کرنے کی بھارتی دھمکی پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے یورپین پریس کلب برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک -بھارت کشیدگی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی جارحیت کے حوالے سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے لیے وفد تشکیل دیا، پارلیمانی وفد کا دورہ انتہائی کامیاب رہا اور عالمی برادری نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بھارتی اقدام سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی پاکستانی پیشکش کو سراہا ہے۔
سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ تنازع کشمیر کے پُر امن حل کے لیے سلامتی کونسل میں بھی بات کی، پہلگام واقعہ پر پاکستان نے بھارت کو غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ تنازع کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں اور نہ ہی دہشتگردی سمیت کسی بھی تنازع کا کوئی فوجی حل ہو سکتاہے، حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کے دوران صبر وتحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے، تاہم بھارت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات کئے جا رہے ہیں، جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی نہیں ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دہشتگرد حملے کی تحقیقات کے بغیر جلد بازی میں جنگ چھیڑ دی اور 5 دن تک بحران کی شدت رہی، بھارت نے پاکستان پر متعدد حملے کیے، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر اور دہشتگردی پر لڑنے کی بجائے پانی پر لڑنے کےلیے مجبور کیا گیا، بھارتی اقدامات دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان پانی کی جنگ کی بنیاد بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سمیت سلامتی کونسل اور دیگر فورمز پر تنازع کشمیر کے پر امن حل کا مطالبہ کرتا آیا ہے، تنازع کشمیر جو کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں بھی شامل ہے اس کو پُر امن طور پر حل کیا جائے لیکن بھارتی حکومت نے ہمیشہ اس سے بھی انکار کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم سمیت ان کی اعلیٰ قیادت نے کشیدگی میں کمی کی بجائے ہمیشہ کشیدگی کو بڑھانے کے بیانات دیے، انہوں نے کہا کہ ثالثی کی تجویزدرست ہے لیکن تنازعات کا جامع حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔